دونالد ترامب في البيت الأبيض - 8 مايو 2026 رويترز

ایران جنگ

کسی رعایت کے لیے تیار نہیں، ایران جانتا ہے جلد کیا ہونے والا ہے: ٹرمپ

وہ کسی بھی دوسرے وقت سے بڑھ کر اب ایک معاہدہ کرنے کے خواہشمند ہیں: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن معاہدے کے مذاکرات کے حوالے سے حال ہی میں ایرانی جواب موصول ہونے کے بعد وہ تہران کے لیے کسی بھی قسم کی رعایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

"نیویارک پوسٹ" کے ساتھ ایک مختصر فون انٹرویو میں ٹرمپ نے بظاہر اتوار کے روز سفارتی مذاکرات کے لیے ایران کی جانب سے پیش کی گئی پیشکش کے دروازے بند کر دیے۔ جب ان سے جمعہ کے روز دیے گئے ان کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کی یورینیم افزودگی کو 20 سال کے لیے منجمد کرنے کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں تو ٹرمپ نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت کسی بھی چیز کے لیے تیار نہیں ہوں۔ انہوں نے امریکی اخبار کو مزید کہا میں واقعی آپ سے اس معاملے پر بات نہیں کر سکتا، بہت سی چیزیں چل رہی ہیں۔

ایران جانتا ہے

تشویش کی بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ جلد ہی کیا ہونے والا ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کسی بھی دوسرے وقت سے بڑھ کر اب ایک معاہدہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ تہران سے ناراض نہیں ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ امریکہ اسے مزید نقصان پہنچانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

دوبارہ جنگ کا دباؤ

چین کے ایک مختصر دورے سے واپسی کے بعد رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کا آخری وقت ورجینیا میں اپنے گولف کلب میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک میٹنگ میں گزارا تاکہ ایران کے حوالے سے اگلے اقدامات کے منصوبے تیار کیے جا سکیں۔ توقع ہے آج منگل کو مزید ملاقاتیں ہوں گی کیونکہ سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے کچھ لوگ سفارتی کوششوں کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں ۔ واضح رہے وائٹ ہاؤس نے ایران کی حالیہ پیشکش پر امریکی ردعمل کے سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

ترمیم شدہ ایرانی دستاویز

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز انکشاف کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے اتوار کی رات ایک ترمیم شدہ ایرانی تجویز امریکی فریق کے حوالے کی ہے۔

"رائٹرز‘‘ کے مطابق انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دونوں ممالک اپنی شرائط میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایرانی ذریعے نے واضح کیا وغ کہ پاکستان کے حوالے کیے گئے ایرانی متن میں جنگ کے خاتمے اور امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق اس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے پر اتفاق کیا ہے۔

"العربیہ/ الحدث" کو ترمیم شدہ ایرانی دستاویز کے حوالے سے ملنے والی لیکس میں بتایا گیا ہے کہ تہران معاوضے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اس کے بدلے اقتصادی سہولیات کا تقاضا کر رہا ہے۔ تہران نے کسی بھی معاہدے کے لیے متعدد بین الاقوامی ضمانتیں مانگی ہیں۔ ان لیکس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایران سمندری راستے کو جوہری معاملے کی پیچیدگیوں سے الگ کرنا چاہتا ہے اور وہ افزودہ یورینیم کو امریکہ کے بجائے روس منتقل کرنے کی شرط پر قائم ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں