ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نادر البصول نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ اگست سے غزہ کے تقریباً 57 بچوں کا علاج کیا ہے۔ (پیٹرا)

اردن : غزہ سے بے گھر کیے گئے فلسطینی بیمار بچوں کا علاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حکومت کی کوششوں سے غزہ میں بے گھر کیے گئے لاکھوں فلسطینی خاندانوں کے بیمار بچوں کے علاج کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ، ان دنوں ایسے 20 فلسطینی بچوں کو اردنی ہسپتالوں میں علاج کی سہلوت دی گئی ہے۔ ان بچوں کے ماں باپ یا خاندان سے 40 افراد کو بیمار بچوں کے ساتھ لایا گیا ہے تاکہ وہ بچوں کی تیمار داری کر سکیں۔

غزہ میں اسرائیل نے دو سال سے زیادہ عرصے پر پھیلی اسرائیلی تاریخ کی بد ترین اور طویل ترین جنگ لڑی ہے۔ اس جنگ کے لیے پچھلے سال دس اکتوبر کو جنگ بندی معاہدہ ہو گیا تھا ، مگر اسرائیلی فوج کی طرف سے اب بھی غزہ کی ناکہ بندی اور غزہ میں بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

اب تک مجموعی طور پر 72000 سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج قتل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے ، ان میں عورتوں اور فلسطیینی بچوں کی تعداد دو تہائی سے زیادہ ہے۔ اسی طرح زخمیوں اور غذائی قلت کا شکار ہونے والوں میں بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

غزہ کی اسرائیلی فوج نے متواتر ناکہ بندی کر کے خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کے ساتھ ساتھ دوائیوں کی فراہمی کو بھی ایک جنگی حربے کے طور پر روک رکھا ہے۔ بہت ہی محدود مقدار میں ادویات کی غزہ منتقلی کی ااجازت ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ اسرائیل ایک نارمل ریاست ہے، وگرنہ اسرائیل کی کوئی حرکت ایک نارمل ملک والی نہیں ہے۔

اس صورت حال میں کئی عرب ملکوں نے اپنے اس عرب خطے فلسطین کے بچوں کے لیے انسانی بنیادوں پر رحم دلانہ سلوک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کھاتے میں اردن کے ہسپتالوں میں 20 بچوں کا غزہ سے لا کرعلاج کیا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے والدین بھی ہیں۔ یہ قافلہ 60 افراد پر مشتمل ہے۔

یاد رہے غزہ میں بیماروں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں مییں ہے۔ مگر یہ سب علاج سے دور اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ کیمپوں اور خیموں میں پڑے ہیں۔ اردن کی شاہی ریاست کی طرف سے جن 20 فلسطینی بچوں کو عمان لایا گیا ہے ان میں 2 بچے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق انہیں اردنی یونیورسٹی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہسپتال ڈاکٹر نادرکہ نے بتایا اردنی بادشاہت میں پچھلے سال سے اب تک کل 57 بچوں کو علاج کے لیے غزہ سے لایا گیا ہے۔ دس ماہ میں غزہ کے بے حال اور بے گھر بچوں کی یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اردن لائی جا سکی ہے۔

اردن فلسطینی مسلمانوں کا مصر کی طرح انتہائی قریبی ہمسایہ ملک ہے، جبکہ اردن کے ساتھ آگے سعودی عرب ہے ، اسی طرح لبنان بھی فلسطینی کے قریب پڑنے والا عرب ملک ہے، جس سے شام جڑا ہے اور آگے عراق ہے۔

ڈاکٹر البسول کے مطابق اردن نے ان بیمار فلسطینی بچوں کے لیے علاج کی ان کوششوں کا آغاز تقریبا سوا سال پہلے مارچ 2025 میں کیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیمیں بھی اردن کی میڈیکل ٹیموں کے ساتھ منسلک ہیں جو اس سلسلے میں مدد کر رہی ہیں۔

اردن نے غزہ میں فیلڈ ہسپتال قائم کر کے بھی غزہ کے فلسطینیوں کی طبی ضروریات میں حصہ ڈالا ہے۔ اردن نے امریکہ کے غزہ میں امدادی فوڈ پیکٹ فضا سے گرانے کے آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا۔ امریکہ جو کہ اسرائیل کا اتحادی اور سرپرست ہے نے دوسال کی تباہ کن غزہ جنگ کے بعد ایک جنگ بندی معاہدہ کرایا ہے۔ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی 800 سے زائد فلسطینیوں کو بمباری کر کے ہلاک کرچکا ہے۔

ان دنوں اسرائیل کی جنگی توجہ کا مرکز لبنان اور ایران ہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں امریکہ بھی ایک شراکت دارکے طور پر موجود ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ امریکہ کی مدد سے غزہ کی طرح لبنان اور ایران کو بھی تباہی کے زریعے ملیا میٹ کر دے، تاہم امریکہ نے ان دنوں اسرائیل کو جنگ بندی کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں