Hajj-Banner
حج سیزن کے دوران مکہ اور مقدس مقامات کی مساجد میں اذان اوراقامت کے درمیانی وقفے میں کمی
آمد و رفت کو آسان بنانے اور حجاج کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کا فیصلہ
سعودی عرب کے وزیر برائے امور اسلامی، دعوت و ارشاد ڈاکٹر عبد اللطيف آل الشيخ نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں مکہ مکرمہ، مرکزی علاقے اور مقدس مقامات کی ان تمام جامع مساجد اور عام مساجد کے ائمہ اور مؤذنوں کو تاکید کی گئی ہے کہ حج سیزن میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقفے کو کم کریں۔ یہ فیصلہ ضیوف الرحمن کی دیکھ بھال، ہجوم کے دباؤ کو کم کرنے اور سنہ 1447 ہجری کے حج سیزن کے دوران ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
نئی ہدایت کے مطابق نماز فجر کے لیے اذان اور اقامت کا درمیانی وقفہ 15 منٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اس وقت کو کم کر کے 5 منٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جمعہ کے خطبے اور نماز کا کل دورانیہ 15 منٹ سے زیادہ نہ ہو تاکہ حجاج کے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے رش کے اوقات میں ان کے لیے آسانی پیدا کی جا سکے۔
یہ ہدایت اس آپریشنل پلان کا حصہ ہے جس پر وزارت حج سیزن کے دوران حجاج کرام کی خدمت کے لیے عمل درآمد کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ مرکزی علاقے اور مقدس مقامات پر ضیوف الرحمن کی تعداد میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ مساجد اور ان کے اطراف میں آمد و رفت کو آسان بنانے میں مدد مل سکے۔ اس اقدام کا مقصد حجاج کرام کے لیے ایسا مناسب ماحول تیار کرنا ہے جس میں وہ اپنے مناسک انتہائی آسانی، اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں، جہاں سکیورٹی، راحت اور بہترین نظم و نسق موجود ہو۔ یہ تمام کوششیں حرمین شریفین اور وہاں آنے والے زائرین کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی خصوصی دیکھ بھال کے عین مطابق ہیں۔