حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم

لبنان کو امریکہ ایران معاہدے کا حصہ بنانے کے بارے میں پر امید ہیں: حزب اللہ سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے بارے میں خود کو پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے۔

حزب اللہ بھی ایران جنگ میں دو مارچ سے شامل ہو چکی ہے۔ حزب اللہ نے اس جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی 28 فروری کو بمباری میں ہلاکت کے بعد رد عمل میں کیا تھا۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کی مدد سے جاری امریکہ و ایران کے مذاکراتی عمل کے دوران ایرانی عہدے دار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے متوقع جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہوگا۔

البتہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنہوں نے ماہ اپریل میں ہونے والی امریکہ ایران جنگ بندی میں لبنان کے لیے جنگ بندی مشکل سے قبول کی تھی، ہفتے کے روز یہ کہہ رہے تھے صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے حق دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اعلان جاری رکھا ہے۔ اس لیے اسرائیل کو جس بھی محاذ پر ضروری ہوا خطرات کے خلاف لڑتا رہے گا۔

ادھر لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اللہ نے چاہا تو امریکہ ایران معاہدہ ہو جائے گا کیونکہ ایسے اشارے مل رہے ہیں۔ اس معاہدے کا ہم اہل لبنان بھی حصہ ہوں گے۔ یہ معاہدہ دشمنی کے مکمل خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔ وہ حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔

حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کا یہ ٹی وی خطاب 2000 میں اسرئیلی فوج کے لبنانی علاقے سے انخلا کی یاد منانے سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا حزب اللہ ایران کے لیے اہم ترین ہے اور یہ اس علاقائی جنگ میں سرخرو رہے گا۔ یاد رہے حزب اللہ کو فنڈنگ کے علاوہ ہتھیار بھی ایران ہی فراہم کرتا ہے۔

امریکہ کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا اگلا اور چوتھا دور 2 سے 3 جون کو واشنگٹن میں متوقع ہے۔ جبکہ 29 مئی کو اسرائیلی فوجی حکام کی ایک اہم ملاقات پینٹاگون میں متوقع ہے۔
مگر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے سربراہ نے اپنے خطاب کے دوران ایک بار کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کا صرف اسرائیل کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے امریکہ کو بھی اتحادی قرار دیا اور اس کو ثالث قرار دینے سے انکار کیا۔
نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو بھی اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذکرات سےباز رہنے کا مشورہ دیا اور ایسا کچھ نہ کریں جس سے امریکہ کو کچھ ملے اور وہ اسرائیل کو فراہم کر دے۔ لبنانی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی جانب نہ جائے بلکہ اپنے عوام سے رجوع کرے ان کے ساتھ کھڑی ہو۔

انہوں نے کہا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایسا ہی کہ حزب اللہ کے دفاع سے ہاتھ باندھ دیے جائیں۔ ہم اپنی مزاحمتی قوت سے اور اہلیت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہتھیاروں سے دستبردار ہونا قبول نہیں ہے کیونکہ یہ ہمیں فنا کے گھاٹ اتارنے کا اسرائیلی منصوبہ ہے، ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے یہ اسرائیل کے مقاصد پورے کرنے کی سازش ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا ہم اسرائیل کے خلاف مزاحمت سے نہیں رکیں گے، اگر پوری دنیا بھی ہمارے خلاف ہو گئی تو بھی ہم سر نہیں جھکائیں گے۔ تام حقائق بتاتے ہیں کہ ہماری قوم کے وجود کو اسرائیل کی جانب سے خطرہ ہے، ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں