عناصر من حركة حماس في غزة - فرانس برس مارس 2026
یورپی یونین کی حماس اور اسلامک جہاد پر اضافی پابندیاں عائد
ایک روز قبل یورپی یونین نے بعض اسرائیلی بستیوں کے مکینوں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں
یورپی یونین نے فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) اور فلسطین میں اسلامی جہاد تحریک پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے حماس اور فلسطین میں اسلامی جہاد تحریک سے متعلق اپنے تادیبی اقدامات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس میں حماس کے سیاسی بیورو کے وہ ارکان بھی شامل ہوں جو تشدد کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں اور انہیں جائز قرار دیتے ہیں۔
یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے بعض اسرائیلی بستیوں کے مکینوں پر پابندیاں عائد کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین نے دسمبر 2001 میں غزہ میں اسلامک جہاد موومنٹ کو اس کے سیاسی اور فوجی دونوں حصوں سمیت دہشت گردی کی متحدہ یورپی فہرست میں شامل کیا تھا۔
حماس اور اسلامک جہاد پر پابندیوں کا نظام
حماس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا یورپی فیصلہ دو مراحل سے گزرا ہے جہاں یونین نے دسمبر 2001 میں حماس کے فوجی ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس سے بعد ستمبر 2003 میں اس کا دائرہ کار بڑھا کر تحریک کو اس کے دونوں ونگز سمیت شامل کر لیا گیا۔ اس وقت سے دونوں تنظیموں پر اضافی پابندیاں عائد کی گئیں اور جنوری 2024 میں یورپی یونین نے حماس اور اسلامک جہاد پر پابندیوں کا نظام کے نام سے دونوں تحریکوں کو سزا دینے کے لیے ایک آزاد اور مخصوص قانونی فریم ورک وضع کیا۔
رواں برس مئی میں یورپی یونین کی کونسل نے باضابطہ طور پر پابندیوں کا دائرہ کار بڑھا کر حماس کے سیاسی بیورو کے ارکان کو شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے تحت سیاسی بیورو کے 10 ممتاز عہدیداروں کو پابندیوں کی فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ ان پر تشدد کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی، دفاع اور انہیں جائز قرار دینے کا الزام ہے۔ اس سے اس مخصوص فریم ورک کے تحت آنے والوں کی کل تعداد 21 افراد اور 3 اداروں تک پہنچ گئی ہے۔