ایران اور امریکہ

تہران، واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے مسودے میں ترامیم شامل کرے گا : ایرانی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایرانی ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ تہران، امریکہ کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے مسودے میں نئی ترامیم شامل کرے گا۔ اتوار کو موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے ترامیم کا مطلب یہ نہیں کہ ایران انھیں تسلیم کر چکا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور تہران تمام ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل ایرانی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ مسودے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی مفاہمت کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک "مستند ضمانتوں" کے بغیر کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا، جو ایرانی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔

ان "مستند ضمانتوں" کے حوالے سے ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود نبویان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی پاسداری کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حتمی مفاہمت کی صورت میں دونوں فریق کو باہمی اقدامات اٹھانے ہوں گے، جس کا مطلب ہے کہ ایران اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جب تک امریکہ اعتماد سازی کے اقدامات مکمل نہ کر لے۔ مسودے کے مطابق، معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے چین، روس اور پاکستان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

دوسری جانب کچھ ذرائع کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے سب سے بڑی ضمانت ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس تزویراتی گزرگاہ کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں رہے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں تہران وہاں جہاز رانی کے انتظام پر نظر ثانی کرے گا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز میں مزید سختی لانے سے مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں۔

جوہری معاملہ اور یورینیم کی منتقلی ان مذاکرات کے اہم ترین متنازع نکات ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے اور اس معاملے پر معاہدے کے 60 دن بعد بات کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ ایک اور بڑا تناؤ آبنائے ہرمز کا ہے، جسے ایران نے جنگ شروع ہوتے ہی بند کر دیا تھا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا۔ امریکہ اس گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول کو مسترد کرتا ہے، جبکہ ایران اس معاملے پر اپنے مطالبے پر سختی سے قائم ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں