حزب اللہ تنظیم کے ارکان کے جنازے کا ایک منظر (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کی لبنانی صدر کے بارے میں ٹویٹ... شدید برہمی کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک لبنانی صدر جوزف عون کے گذشتہ روز دیے گئے بیان کے جواب میں کوئی با ضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس بیان میں عون نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم لبنانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے، تاہم اب پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔

الشيخ نعيم قاسم لا يمثل الشيعة فحسب بل بيئة المقاومة وهي غالبية اللبنانيين و كل مقاوم وطني حر وشريف… اما سلطة الذل والاستسلام والعار فتمثل مصالح أميركا في لبنان .

— Ibrahim Al Moussawi (@ibrahimmousawi) June 5, 2026

الموسوی نے "ایکس" پر اپنے اکاؤنٹ پر عون کے بیان کے جواب میں لکھا "شیخ نعیم قاسم نہ صرف شیعوں کی بلکہ مزاحمتی ماحول کی نمائندگی کرتے ہیں، جو کہ اکثریتِ لبنانیوں اور ہر آزاد اور معزز قومی مزاحمت کار کی نمائندگی ہے..." انہوں نے مزید کہا "جہاں تک ذلت، ہتھیار ڈالنے اور شرمندگی کی اتھارٹی کا تعلق ہے تو وہ لبنان میں امریکہ کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے۔"

اس بیان نے مذکورہ رکن اسمبلی کے خلاف ردِ عمل کا ایک طوفان کھڑا کر دیا، کیونکہ ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والے بہت سے لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ حزب اللہ خود ایران کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے۔ دوسروں کا ماننا ہے کہ پارٹی نے تہران کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ملک اور عوام کو ایک تباہ کن جنگ میں جھونک دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ الموسوی نے کس سروے کی بنیاد پر یہ بات کی ہے۔ جبکہ متعدد افراد نے اس بات پر زور دیا کہ "صدر جمہوریہ ہر معزز لبنانی کی نمائندگی کرتے ہیں۔"

Your browser doesn’t support HTML5 video

لبنانی صدر نے جمعے کو "سی این این" نیٹ ورک کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران لبنان کو ایک مذاکراتی کارڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ صدر عون نے کہا "یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے اور آپ کا کام ہمارے ملک میں مداخلت کرنا نہیں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں اور ہمارے گھر تباہ ہو رہے ہیں۔"

لبنانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حزب اللہ لبنانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی، بلکہ ریاست ہی خود مختار فیصلوں کی ذمے دار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جنگ اور تباہی کو روکنے کا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم نواف سلام نے تہران سے مطالبہ کیا کہ "لبنان اور اس کے جنوب کو امریکہ کے ساتھ اپنی مذاکرات کی شرائط کو بہتر بنانے کے لیے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرنا بند کرے۔"

لبنانی قیادت کے یہ موقف ایسے وقت سامنے آئے جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی تجویز پر حزب اللہ کے تبصرے سے قبل ہی ردِ عمل دے دیا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے کہا تھا کہ "مزاحمت" اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو اس وقت تک مسترد کرتی ہے جب تک اسرائیل کی افواج جنوب سے انخلا نہ کر لیں۔

بعد ازاں حزب اللہ نے جنگ بندی کے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے "شرم ناک اور توہین آمیز" قرار دیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں