گلوکارہ کی موجودگی پر ہنگامہ.. حوثی ملیشیا کا خواتین کی شادی کی تقریب پر دھاوا
ضلع ریدہ، صوبہ عمران میں دلہن کے والد اور ان کی بیٹیوں پر تشدد کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا
شمالی یمن کے صوبہ عمران کے ضلع ریدہ میں حوثی ملیشیا کے ارکان نے خواتین کی شادی کی ایک تقریب پر دھاوا بول دیا اور دلہن کے والد پر تشدد کرنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔ اس واقعے نے سماجی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ ملیشیا کی جانب سے ضلع ریدہ کے ڈپٹی سکیورٹی ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کردہ ابوعبدالحمید السراری کی قیادت میں کئی سکیورٹی گاڑیوں پر مشتمل ایک حوثی دستے نے گزشتہ روز ہفتے کی شام قریہ الفتر میں عبداللہ بن حسین الفتر کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں وہ اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب منعقد کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق حوثی مسلح افراد نے خواتین کے خیمے میں گھسنے سے پہلے ہوائی فائرنگ کی، جس سے تقریب میں موجود خواتین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے زبردستی تقریب میں گانا گانے والی گلوکارہ کو وہاں سے بھگا دیا اور ان پابندیوں کے بہانے شادی کی رسومات کو طاقت کے زور پر روک دیا جو گروہ کی جانب سے سماجی تقریبات پر مسلط کی گئی ہیں۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ ملیشیا کے ارکان نے دلہن کے والد اور ان کی کئی بیٹیوں پر تشدد کیا، جس سے وہاں موجود خواتین میں سراسیمگی پھیل گئی اور تقریب کا ماحول خراب ہو گیا۔ اس کے بعد مسلح افراد نے دلہن کے والد کو اغوا کر کے زبردستی ریدہ کے سکیورٹی ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا۔
یہ واقعہ اسی صوبے کے علاقے الاشمور میں پیش آنے والے ایک اور حملے کے صرف ایک دن بعد پیش آیا ہے، جس میں حوثی مسلح افراد نے لوک فنکار یحییٰ صعصعہ کو ایک سماجی تقریب سے واپسی پر تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کا سامان لوٹ لیا۔
گزشتہ مہینوں اور سالوں کے دوران حوثی ملیشیا نے شادیوں کی تقریبات میں فن کا مظاہرہ کرنے والے گلوکاروں، نعت خواں اور موسیقی کے گروپوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ایسے فنکاروں کو بلانے سے منع کر رکھا ہے اور کئی بار ان کے خلاف تشدد، اغوا اور قید کی مہمات چلا چکے ہیں۔