Palestinians inspect the rubble of a building destroyed in an Israeli airstrike at Khan Younis, in the southern Gaza Strip, Sunday, June 7, 2026. (AP Photo/Abdel Kareem Hana)
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ غزہ کے شمالی علاقے میں ایک فضائی حملے کے دوران حماس کے مالیاتی منتقلی کے نظام کے ذمہ دار اور اس کے نائب کو ہلاک کر دیا گیا۔
فوجی ترجمان ایلا واویہ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ اتوار کے روز ایک ہدفی فضائی حملے میں نیٹ ورک کے سربراہ خضر الجماصی اور ان کے نائب محمد حرزین کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق دونوں افراد کرنسی ڈیلرز کے ایک ایسے نیٹ ورک کی نگرانی کر رہے تھے ،جس میں درجنوں افراد شامل تھے، جنگ کے دوران اسی نیٹ ورک کے ذریعے حماس کے عسکری ونگ کو کروڑوں ڈالر منتقل کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ رقوم حماس کے ارکان کی تنخواہوں کی ادائیگی اور اسرائیلی فوجیوں و شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی گزشتہ ایک سال کے دوران حماس کے مالیاتی امور سے وابستہ اہم شخصیات کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا حصہ ہے، جن میں فراس مشہراوی اور ایہاب خریزم بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت غزہ کے جنوبی علاقوں میں تعینات اس کی افواج فوری خطرات کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قاہرہ میں مذاکرات، جنگ بندی اب بھی نازک
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں اور ثالثوں کے درمیان غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
تاہم فلسطینی ہتھیاروں کو محدود یا جمع کرنے کا معاملہ اب بھی ایک ''بنیادی رکاوٹ'' بنا ہوا ہے، جیسا کہ فلسطینی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا۔
مذاکرات سے باخبر ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق ثالثوں اور حماس کے درمیان غزہ میں ہتھیاروں کے معاملے پر ایک مشروط فارمولے پر اتفاق ہوا ہے، لیکن ان کے خیال میں اسرائیل اور امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نیکولائی ملادینوف ان شرائط کو مسترد کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ تمام ہتھیار بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے کیے جائیں، جسے ٹرمپ منصوبے کے تحت تشکیل دیا جانا ہے۔
ایک اور ذرائع جو مذاکرات سے آگاہ ہے، اس نے منگل کے روز بتایا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق مشاورت کا عمل جاری ہے، تاہم بنیادی مسائل پر فریقین کے درمیان واضح اختلافات موجود ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ میں 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ لڑی گئی۔
تاہم یہ جنگ بندی اب بھی نازک سمجھی جاتی ہے، کیونکہ غزہ میں تقریباً روزانہ اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں، جن میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں اور مزید تباہی پھیلتی ہے۔