Palestinian Hamas militants stand guard at a site as Hamas says it continues to search for the bodies of deceased hostages, in Beit Lahiya in the northern Gaza Strip, December 3, 2025. (Reuters)
قاہرہ: فلسطینی جماعتوں کا غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے پر تبادلہ خیال
فلسطین کی مختلف جماعتوں بشمول حماس نے اس امر سے اتفاق کر لیا ہے کہ حماس اپنے ہتھیاروں کے کچھ حصے اس فورم کے حوالے کر دے گی۔ جس فورم کا قیام ابھی عمل میں لایا جانا باقی ہے۔ 'اے ایف پی' کے مطابق فلسطینی جماعتوں نے اس سلسلے میں اتفاق منگل کے روز قاہرہ میں کیے گئے باہمی مذاکرات میں کیا ہے۔
امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس طرح کی تجویز اسرائیل کی طرف سے بھی قبول کر لی جائے گی۔ جو غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی علاقہ دیکھنا چاہتا ہے مگر اس کی ابتدا حماس سے کرنا چاہتا ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے کو ذرائع نے بتایا فلسطینی جماعتوں کے درمیان یہ مذاکرات ہفتے کے روز شروع ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کی بنیاد پر توقع کی جارہی ہے کہ غزہ کے مستقبل کے بارے میں کئی ماہ سے جاری مذاکراتی جمود کا خاتمہ بھی ہو گیا ہے۔
حماس کی اہمیت یہ بتائی گئی کہ ان میں سب سے بڑے مزاحمتی گروپ حماس اور اس کی اتحادی اسلامی جہاد نے بھی شرکت کی اور فتح پارٹی بھی شریک ہوئی ، جو فلسطینی اتھارٹی کا انتظام سنبھالتی ہے۔
منگل کے روز ان تمام جماعتوں نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا کہ ہتھیار نئے تشکیل دیے جانے والے فورم کے سپرد کیے جائیں گے جو فلسطینی سیاسی جماعتوں کے افراد پر مشتمل ہوگا۔ یہ بات ان مزاکرات سے جڑے ایک ذریعے نے بتائی ہے۔
تاہم ان جماعتوں نے اسرائیل کے مطالبے کے مطابق ہتھیار چھوڑ دینے سے انکار کیا کہ وہ کلی طور پر ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائیں۔ متعلقہ ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مصر اور دوسرے ثالث ملک اس سلسلے میں ایک فارمولہ بنا رہے ہیں جو تمام فلسطینی گروپوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس فارمولے پر تمام فلسطینی گروپوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں شریک ایک ذریعے نے بتایا مصر اور قطر نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس ہتھیاروں سے دستبرداری کو غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلا اور تعمیر نو سے مشروط کرتی ہے۔ حماس کے سینیئر عہدے دار طاہر النونو نے اس سلسلے میں 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا حالیہ دنوں میں اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ حماس بھی چاہتی ہے کہ صدر ٹرمپ کا امن منصوبہ نافذ ہو۔
دوسری جانب اسرائیل نے دس اکتوبر 2025 سے شروع ہونے ولی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اب تک فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے۔
حماس نے اس سے قبل بار ہا یہ بات کہی ہے کہ وہ اپنے کچھ ہتھیار فلسطینی سیاسی عمل کا حصہ بن کر حوالے کر سکتی ہے۔ حماس کے سابق سربراہ خالد مشعل نے ہتھیاروں کو گوداموں میں محفوظ کر دینے اور استعمال نہ کرنے کی تجویز دی تھی مگر اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا تھا۔