An AI-generated image of the flags of the US and Iran. (ChatGPT)
امریکہ ایران جنگ بندی کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کا متن 'العربیہ' نے حاصل کر لیا
العربیہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جس مفاہمتی یادداشت پر اب تک کی اطلاعات کے مطابق اتفاق ہو چکا ہے اور جمعہ کے روز باضابطہ طور پر اس پر متعلقہ فریق دستخط کریں گے، ان دستخطوں سے پہلے ہی 'العربیہ' نے مفاہمتی یادداشت کا متن حاصل کر لیا ہے۔
یہ مفاہمتی یادداشت درج ذیل 14 نکات پر مشتمل ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں ان نکات کے لیے آرٹیکلز کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جن کا ترجمے میں بعض جگہوں پر شقوں کی صورت ترجمہ کیا گیا ہے۔
1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اس جاری جنگ میں اپنے اپنے اتحادیوں سمیت اس مفاہمتی یادداشت کے ذریعے یہ اعلان کرتے ہیں کہ فوری طور پر اور مستقل طور پر تمام محاذوں پر جنگ ختم کی جاتی ہے۔ ان محاذوں میں لبنانی محاذ بھی شامل ہے۔
اب ان محاذوں پر فریقین ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں کریں گے۔ نیز ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی دھمکی اور طاقت کا استعمال کرنے سے باز رہیں گے۔ حتمی معاہدے میں اس شق کی بھی تصدیق کی جائے گی اور بقیہ شقوں کی بھی ۔
2۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کا عہد کرتے ہیں۔ اس ناطے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں گے۔
3۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ دونوں اس معاہدے کو حتمی معاہدے کی شکل دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر اندر مذاکرات کریں گے ۔ تاہم ان 60 دنوں کو فریقین باہمی مرضی سے بڑھانا چاہیں تو بڑھا سکیں گے۔
4۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کے خلاف ہر طرح کی رکاوٹیں اور مداخلت روک دے گا اور 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے ٹریفک کی روانی کو اس کی مکمل گنجائش کے ساتھ چلنے کے قابل ہونے دے گا۔ جہازوں کو جنگ سے پہلے والے تناسب پر آنے دینا ایران کی ذمہ داری ہوگی۔ جبکہ امریکہ حتمی معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اندر اپنی افواج کو یہاں سے ہٹا لے گا اور اردگرد کے علاقوں سے بھی واپس لے جائے گا۔
5۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی فوری طور پر ایران ایسے اقدامات کرے گا جن کی مدد سے تجارتی خلیج فارس سے اومان کے سمندر میں نقل و حرکت کر سکیں۔ اسی طرح 30 دنوں کے اندر ٹریفک کو جنگ سے پہلے والے حجم میں لایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایران تمام تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ موجود بارودی سرنگوں کو بھی صاف کرے گا۔
6۔ امریکہ یہ عہد کرتا ہے کہ علاقے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کی اقتصادی بحالی کا ایک ایسا جامع منصوبہ تیار کرے گا جس پر دونوں متفق ہوں گے۔ اس منصوبے کے لیے 300 ارب ڈالر کی رقم یقینی بنائی جائے گی۔ منصوبے پر عمل درآمد کا میکانزم 60 دنوں میں تیار کیا جائے گا۔
7۔ امریکہ یہ عہد کرتا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی گئی تمام پابندیوں کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے پر اتفاق کے تحت ایک شیڈول بنائے گا۔ جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف ہر طرح کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ انہی پابندیوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور بین الاقوامی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں سے لگنے والی پابندیاں بھی ، نیز امریکہ کی طرف سے یکطرفہ طور پر ایران کے خلاف لگائی گئی پابندیاں جن میں پرائمری اور سیکنڈری دونوں نوعیت کی پابندیاں شامل ہیں ہٹا دی جائیں گی۔
8۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اس تناظر میں ایران اور امریکہ دونوں نے اتفاق کیا ہے کہ جملہ امور جو جوہری ایشو سے متعلق ہیں، جن میں ایرانی افزودہ کردہ یورینیئم کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ باہمی اتفاق سے کیا جائے گا۔ ایران سے متعلق تمام جوہری امور بشمول ایران کی سول جوہری ضروریات بھی اسی اتفاق رائے سے پوری کی جائیں گی۔ حتمی معاہدہ اس شق کی تمام پروویژنز میں اتفاق رائے سے طے ہوں گی۔
9۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اس پر بھی متفق ہیں کہ جب تک حتمی معاہدہ التوا میں ہے فریقن 'سٹیٹس کو' کو برقرار رکھیں گے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو اسی حالت پر محدود رکھے تاوقتیکہ حتمی معاہدہ نہ ہوجائے۔ امریکہ بھی اس دوران ایران پر نئی پابندیاں عاید نہیں کرے گا۔ نہ ہی خطے میں اپنی افواج کو بڑھائے گا۔
10۔ امریکہ یہ بھی عہد کرتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے اور پابندیاں ہٹانے کی تاریخ تک امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل پراڈکٹس ، پٹرولیم سے حاصل کردہ دیگر مصنوعات کے علاوہ ان سے متعلقہ تمام تر خدمات بشمول بینکنگ، انشورنس اور ٹرانسپورٹیشن سے جڑی سرگرمیوں کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔
11۔ امریکہ یہ بھی عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کی طرف ہونے والی پیش رفت کی روشنی میں ایران کے منجمد کیے گئے اور پابندیوں کی زد میں آئے فنڈز اور اثاثے ایران کے حق میں واگذار کیے جائیں گے اور یہ ایران کے استعمال کے لیے پوری طرح دستیاب ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ تمام پرمٹس اور لائسنسز کا بھی اجرا کرے گا۔
12۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اس پر بھی اتفاق کرتے ہیں کہ عملدرآمد کے لیے ایک میکانزم تیار کیا جائے گا۔ یہ میکانزم عملدرآمد سے متعلق امور کی نگرانی کرے گا نیز حتمی معاہدے سے متعلق مستقبل کی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کے امور کی نگرانی کرے گا۔
13۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد اس کے آرٹیکلز 4 ، 5 ، 10 اور 11 پر عملدرآمد کی یقین دہانی حاصل ہونے کے بعد ان اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔ دونوں فریق ایک حتمی معاہدے کے مذاکراتی عمل میں داخل ہو جائیں گے۔ بقیہ آرٹیکلز کا بھی احترام کرتے ہوئے۔
14 ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لی جائے گی۔ یہ منظوری ایک قرارداد کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔