اسرائیل کے انتہا پسند وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر

لبنان کو مکمل طور پر جلا کر راکھ کر دینا چاہیے: ایتمار بن گویر کا اشتعال انگیز بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے ایک بار پھر انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے لبنان کو جلا کر راکھ کر دینا چاہیے۔ بنجمن نیتن یاھو کے سیاسی حلیف اور اسرائیل کے سرکردہ انتہا پسند رہنما ایتمار بن گویر نے کہا کہ لبنان کو مکمل طور پر جل جانا چاہیے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کا احترام اپنی جگہ لیکن اسرائیل کو پوری دنیا پر واضح کر دینا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کے خون اور سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کو جلا کر راکھ دیا جانا چاہیے۔

ایتمار بن گویر نے مزید کہا کہ ایک اسرائیلی ماں کے آنسوؤں کے بدلے ایک ہزار لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا بند کرنا ہوگا۔ مشرق وسطی میں سوچ سمجھ کر ردعمل دینے یا تحمل برتنے سے فتح حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاگل پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا، دشمن کا خاتمہ کرنا ہوگا اور دہشت گردی کو شکست دینی ہوگی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو



جہنم کے دروازے

دوسری جانب انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست میں ان کے حریف اور اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ہمیں آگ کو بولنے دینا چاہیے اور جہنم کے دروازے کھول دینے چاہییں۔ انہوں نے یہ بات فوجیوں کی ہلاکت کے تناظر میں کہی تاہم براہ راست لبنان کا نام نہیں لیا۔

ادھر اپوزیشن کی قوم پرست جماعت ’اسرائیل بیتنا‘ کے سربراہ اویگڈور لایبرمین نے زور دیا کہ دوسرے فریق کو بھاری قیمت چکانی چاہیے جس سے وہ کبھی سنبھل نہ سکے۔ اس بیان نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے جن کی حکومت کی پارلیمانی اکثریت اکتوبر کے آخر تک ہونے والے انتخابات کے قریب آتے ہی ڈگمگا رہی ہے۔ لایبرمین نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ اگر چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والے بیروت کے جنوبی مضافات موجود رہے تو وزیر اعظم اور وزیر دفاع براہ راست ناکامی کے ذمہ دار ہوں گے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج



چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے آج قبل ازیں جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ سنہ 2023ء میں امریکہ اور ایران کے درمیان لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کی مفاہمت کے بعد یہ اسرائیل کا پہلا جانی نقصان ہے۔ فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں مسلح تصادم کے دوران 401 ویں بکتر بند بریگیڈ کی 52 ویں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ڈور گڈالیا بن سمحون اور تین دیگر اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ فوج نے تصدیق کی کہ ایک بمبار ڈرون حملے میں ایک افسر اور چار دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے درجنوں قصبوں پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں اور ملک کے مشرقی حصے میں بقاع کے تاریخی شہر بعلبک کے قریب کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل میں انتہا پسند دائیں بازو اور اپوزیشن کی جانب سے امریکی ایرانی مفاہمت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ اسرائیل کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں دیتی۔ بنجمن نیتن یاھو پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔

دریں اثنا معاریو اخبار میں جمعہ کے روز شائع ہونے والے ایک سروے میں دکھایا گیا ہے کہ 63 فیصد اسرائیلی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد اسرائیل کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں