النفط الإيراني (تعبيرية- آيستوك)

پیر کے روز سے ایرانی تیل کے 25 ملین بیرل محاصرے کی لائن عبور کر چکے ہیں

چھ ہفتوں کے تعطل کے بعد خارک جزیرے پر برآمدی ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ کا دوبارہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ پیر کے روز سے اب تک ایرانی تیل کے 25 ملین بیرل سے زیادہ محاصرے کی لائن عبور کر چکے ہیں۔ ایران نے اپنی بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرہ ختم ہونے کے بعد تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد خارک جزیرے پر برآمدی ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔

بلومبرگ کی جانب سے جمع کیے گئے بحری جہازوں کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار برآمدی ٹرمینل کے قریب تین بڑے آئل ٹینکرز کی موجودگی ظاہر کر رہے ہیں جن میں سے ہر ایک کی گنجائش تقریباً دو ملین بیرل ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ عارضی معاہدے کے تحت سپلائی لائنیں کھلنے کے ساتھ ہی اپنی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔

خیال رہے خارک جزیرہ ایرانی تیل کی برآمدات کا سب سے اہم مرکز ہے جہاں سے خام تیل کی تقریباً 90 فیصد کھیپ گزرتی ہے۔ امریکہ اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی تیاری کے طور پر 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود امریکی فوج نے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔

اتوار کو اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کی جانب سے دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ تہران نے لبنان میں اسرائیل کے حملے روکنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ "العربیہ" کے ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ ایرانی مذاکراتی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے احتجاج میں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کی جگہ سے روانہ ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر دوبارہ بمباری اور اسے تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل "العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے پہلے دور کے خاتمے کی اطلاع دی تھی جو اتوار کو اس سے قبل شروع ہوا تھا۔ تاہم ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد ایران نے مذاکرات سے دوسرے سیشن میں شرکت سے انکار کردیا۔ ایرانی میڈیا نے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا سیشن 80 منٹ تک جاری رہا اور اس کے بعد اندرونی مشاورت ہوئی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں