پیر، 22 جون، 2026 کو جنوبی لبنان کے گاؤں میفادون میں ایک عورت اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد اپنے تباہ شدہ گھر سے اپنے بچوں کے کھلونے اور سامان اکٹھا کر رہی ہے۔ (اے پی)
اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے کہا ہے لبنان میں تازہ اسرائیلی جنگ کے دوران بمباری کر کے لبنان میں عمارات کو ایک ارب اڑتیس کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ یو این کی ایجنسی اور لبنانی ریسرچ سنٹر کی مشترکہ رپورٹ پیر کے روز سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 11095 عمارات مکمل طور پر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو گئیں ۔ 17891 مکانات بمباری سے متاثر ہوئے جبکہ 2242 عمارات کواسرائیلی بمباری سے جزوی نقصان پہنچا البتہ 9311 عمارتوں کو کم نقصان پہنچا ہے۔
یو این ڈی پی لبنان کے سرکاری ادارے نیشنل کونسل برائے سائنٹفک ریسرچ سنٹر کے مطابق عمارات بڑی تعداد میں جنوبی لبنان میں تیزی سے تباہ کی گئیں۔
ان اداروں نے سیٹلائٹس کی مدد سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر اکتوبر 2025 اور رواں سال اپریل کے اواخر میں لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے تقابل کر کے یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔
اس طرح 2 مارچ سے اسرائیل کی لبنان میں شروع ہونے والی تازہ جنگ کے دوران دیگر انسانی و مادی نقصان کے علاوہ صرف عمارات کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 1.38 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
جنوبی لبنان جہاں اسرائیلی فوج نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے، یہاں سے لاکھوں لبنانیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان علاقوں کے بعض لوگوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں اور جنگ زدہ علاقوں میں واپسی کا سلسلہ اپنے طور پر شروع کر دیا ہے۔ لبنانی فوج ان لوگوں کو ابھی گھروں اور اپنے علاقوں میں واپس آنے سے روک رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی بمباری سے مزید تباہی کا خطرہ ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ابھی لبنانی علاقے خالی کر کے واپس نہیں جائے گی۔ بلکہ جتنا لمبا عرصہ بھی ضروری ہوا ادھر قیام کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے اب تک 4100 لبنانیوں کو قتل کیا ہے۔ جبکہ لگ بھگ 12 لاکھ افراد کو بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔