پیزشکیان اور مفاہمت کی یادداشت (تصویر برائے IRNA)
پزشکیان نے ان امریکی بیانات پر خبردار کر دیا جو مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد گار نہیں ہیں
سوئٹزرلینڈ کے بورگن اشتوک ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے اختتام پر، ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کی افادیت کا انحصار طے شدہ ذمہ داریوں کی مکمل پابندی اور ان پر درست انداز میں عمل درآمد کرنے پر ہے۔
انہوں نے آج منگل کو "ایکس" پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ "اس راستے پر پیش رفت کا اندازہ اختیار کردہ ذمہ داریوں پر عملی وابستگی سے لگایا جاتا ہے"۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ "متفقہ متن سے باہر دیے گئے بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد گار نہیں ہوتے"۔ ان کا اشارہ بالواسطہ طور پر امریکی بیانات کی جانب تھا جن میں یہ کہا گیا تھا کہ بیرون ملک منجمد ایرانی رقوم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کی جائیں گی، جیسا کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا تھا۔
The effectiveness of the talks depends on full commitment to the agreed obligations and their precise implementation.Progress on this path will be measured by practical adherence to accepted responsibilities.Statements outside the agreed text do not help advance the negotiations.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 23, 2026صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ "اگر مفاہمت کی یاد داشت کے تمام نکات پر عمل درآمد کر لیا گیا تو خطے کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔"
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق پزشکیان کے آج اسلام آباد جانے کی توقع ہے۔
ادھر سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے جنگ کے خاتمے کے لیے قطر اور پاکستان کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے فریم ورک کے اندر امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا۔ غریب آبادی نے "چار ورکنگ گروپس کی تشکیل کی طرف اشارہ کیا جو پابندیاں ختم کرنے، ایٹمی امور، تعمیر نو و اقتصادی ترقی اور نگرانی و نفاذ سے متعلق ہیں۔"
واضح رہے کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد "18 گھنٹے کی بھرپور بات چیت" کے بعد گذشتہ روز پیر کو الپس کے پہاڑوں میں واقع ریزورٹ سے روانہ ہو گیا تھا۔
دوسری جانب سوئس وزارت خارجہ نے امریکی اور ایرانی وفود کی روانگی کے ساتھ ہی یہ رائے ظاہر کی کہ مذاکرات کی "فوری بحالی" کے لیے حالات سازگار ہیں، بشرطیکہ وہ "تکنیکی" سطح پر ہوں۔
ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوران لبنان میں تصادم کو روکنے اور تزویراتی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک منجمد کچھ ایرانی رقوم کی بتدریج رہائی بھی شامل ہے، جیسا کہ دونوں ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دو مسائل ان اہم امور میں سے ہیں جن پر اس جنگ نے توجہ مرکوز رکھی جس نے خطے کو بھڑکا دیا اور عالمی معیشت میں اضطراب پیدا کیا۔ پاکستانی اور قطری حکومتوں کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کاروں نے "حوصلہ افزا پیش رفت" کی ہے۔