ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی
ایران نے نیٹو پر اپنے خلاف جنگ میں "ملی بھگت" کا الزام عائد کر دیا
مارک روٹے کے مطابق "اٹلی میں امریکی اڈوں سے امریکہ کے 500 طیاروں نے پرواز کی".
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کے روز شمالی بحر اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی، ان کے الفاظ کے مطابق "غیر قانونی جارحانہ جنگ" میں "ملی بھگت" کا الزام عائد کیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے فوکس نیوز کو دیے گئے اس بیان پر تبصرہ کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کی حمایت کے لیے "امریکہ کے 500 طیاروں نے اٹلی میں امریکی اڈوں سے پرواز کی"۔
مارک روٹے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بخارسٹ ایئرپورٹ نے تجارتی پروازوں کی تعداد میں کمی کی تاکہ اس فوجی آپریشن کے سلسلے میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کے لیے جگہ بنائی جا سکے... اور یہ کہ جنگ کے دوران یورپ میں موجود اڈوں سے امریکہ کے 4 سے 5 ہزار طیاروں نے پرواز کی۔
اسماعیل بقائی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا "یہ اقوام متحدہ کی رکن خود مختار ریاست کے خلاف چھیڑی گئی ایک غیر قانونی جارحانہ جنگ میں نیٹو کی فعال ملی بھگت کا واضح اور ناقابل تردید اعتراف ہے"۔
بقائی نے مزید کہا کہ مارک روٹے نے "واضح طور پر اٹلی اور رومانیہ کی طرف اشارہ کیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف جارحیت میں حصہ لیا"۔
ترجمان کے مطابق "ان دونوں ممالک کو جیسا کہ دیگر تمام یورپی ممالک جنہوں نے ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کی حمایت کی، اپنے عوام اور پوری دنیا کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے اس کھلی جارحانہ کارروائی اور ایرانی عوام کے خلاف اجتماعی مظالم کے ارتکاب میں ملی بھگت کا انتخاب کیوں کیا"۔
ادھر اطالوی وزارت دفاع نے بدھ کے روز مارک روٹے کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے "مکمل طور پر گمراہ کن پیغام" قرار دیا اور تصدیق کی کہ روم نے امریکہ کو اپنے اڈے صرف تکنیکی اور لوجسٹک پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، نہ کہ جنگی کارروائیوں کے لیے۔