علامتی تصویر - آئی اسٹاک

امریکہ ایران مذاکرات کا ایک دور جولائی میں دوحہ میں منعقد ہو گا... "العربیہ" ذرائع

دوحہ میں منجمد اثاثوں کے معاملے پر بات چیت ہو گی... اور پاکستان بعد میں جوہری معاملے پر مذاکرات کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ جولائی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کی بات چیت میں منجمد اثاثوں کے معاملے پر تبادلہ خیال ہو گا۔ ساتھ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ پاکستان بعد میں جوہری معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 2 جولائی کو ایران کا دورہ کریں گے۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے بیچ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو سوئٹزرلینڈ میں دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد پہلا واقعہ ہے۔ واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام لگایا، جس کے جواب میں امریکہ نے متعدد اہداف پر حملے کیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ کی جانب سے جمعہ کے روز اس کی سرزمین پر کیے گئے حملے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کی "کھلی خلاف ورزی" ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل دو کے پیراگراف چار اور جون کے وسط میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے پہلے پیراگراف کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ فائرنگ کا تبادلہ 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس واقعے نے آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں،،، جبکہ واشنگٹن اور تہران اس جنگ کے حتمی حل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی "بھونڈی خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔ اسی طرح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ کے ذریعے براہ راست متنبہ کیا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں