جندي أميركي يراقب السفن في محيط مضيق هرمز (الصورة من سنتكوم)

ایرانی حملوں کے ردعمل میں ایران کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا: امریکی سینٹ کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے جمعہ کو تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے اندر فضائی حملے کیے ہیں، جو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے۔

سینٹکام کے بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

یہ کارروائی اس حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران نے مبینہ طور پر 25 جون کو سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز ''ایم/وی ایور لافلی'' کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔

سینٹکام نے کہا کہ شہری جہاز پر حملہ جنگ بندی اور بحری آزادی کی خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت اور معاہدوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ممکنہ ردعمل کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جوابی کارروائی کے بارے میں سوال پر آپ کو خود معلوم ہو جائے گا۔

اسی دوران ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جنوبی شہر سیرک میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، تاہم اس کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر حملہ کیااور اسے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی ناقص اور غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی قرار دیا۔

دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر اپنی حاکمیت کے حق کا اعادہ کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر ایسے مبہم انتظامات، متبادل راستوں یا فیصلوں کی صورت میں جو اس آبی گزرگاہ پر ایران کے کردار کو نظرانداز کرتے ہوں۔

ان کشیدگیوں کے باعث جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، جو اس ہفتے کے آغاز کے مقابلے میں کم رہی، جیسا کہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں