نبطیہ پر اسرائیلی فضائی حملہ (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں راکٹ لانچر نصب کرنے والے حزب اللہ کے مسلح افراد کو ہلاک کر دیا اور ایک راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم کو بھی نشانہ بنایا، جو اس کے بقول اس کے فوجیوں کے لیے خطرہ تھا۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر جاری بیان میں کہا کہ فوج نے اس عمارت کو بھی نشانہ بنایا جہاں سے مسلح افراد کارروائیاں کر رہے تھے، جبکہ راکٹ لانچر کو تباہ کر دیا گیا۔ فوج نے حملوں کی ویڈیو بھی جاری کی۔
بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کی 36ویں ڈویژن کی ''ایگوز'' یونٹ نے گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اس علاقے کے قریب، جہاں اسرائیلی فوج سرگرم ہے، حزب اللہ کے متعدد ایسے مسلح افراد کی نشاندہی کی جو آر پی جی راکٹوں سے لیس تھے۔
فوج نے مزید کہا کہ ایک علیحدہ کارروائی میں اس کی کثیرالجہتی یونٹ نے حزب اللہ کا ایک راکٹ لانچر بھی تباہ کیا، جو اس کے بقول اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں زور دیا کہ وہ حزب اللہ کو اسرائیلی شہریوں یا اپنی افواج کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی اور ہر ممکن خطرے کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
فریم ورک معاہدے پر دستخط
یہ فضائی حملے لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان پانچ ادوار پر مشتمل مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس معاہدے میں خاص طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، جنوبی لبنان میں ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور دو ''آزمائشی علاقوں'' سے لبنانی فوج کی تعیناتی کا آغاز کرنے کی شقیں شامل ہیں۔
یہ معاہدہ گزشتہ جمعہ کو امریکا کی سرپرستی میں طے پایا، جس کا مقصد 2 مارچ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی، جب حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان، بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ) اور ملک کے مشرقی علاقے بقاع پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے کی شام اس فریم ورک معاہدے کو ''تاریخی'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔.