بغداد، عراق میں 10 دسمبر 2025 کو عراقی فوج کی گاڑیاں۔ (اے پی)
عراقی افواج کا بغداد کے گرین زون پر چھاپہ، اہلکاروں کو گرفتار کر لیا
نئے وزیرِ اعظم پر تہران کے حمایت یافتہ گروپوں کو ختم کرنے کے لیے امریکی دباؤ ہے
عراقی سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بھاری تعیناتی کے درمیان اتوار کو بدعنوانی کے شبہ میں ارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے علی الصبح بغداد کے قلعہ بند گرین زون پر چھاپے مارے۔
گرین زون میں امریکی سفارت خانہ اور دیگر سفارتی مشنز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ادارے اور سرکاری دفاتر موجود ہیں۔ اعلیٰ عہدیدار اور سیاستدان بھی وہاں رہتے ہیں۔
مقامی ٹیلی گرام چینلز پر پوسٹ کی گئی ویڈیو فوٹیج میں گرین زون میں ٹینکوں جیسی بھاری گاڑیوں میں سکیورٹی فورسز کو دکھایا گیا جس میں ان کا ایک کلپ ایک احاطے کے اندر اور دوسرا ایک گھر کے اندر ہے۔
اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے گرین زون کے داخلی راستوں پر بھاری نفری تعینات ہونے کی اطلاع دی۔
بغداد کے دیگر محلوں پر بھی وسیع پیمانے پر چھاپے مارے گئے جن کا مقصد عراقی حکام اور سیاست دانوں کو گرفتار کرنا تھا۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ "عدالتی احکامات کے مطابق مالی بدعنوانی کے الزام میں چھاپوں میں متعدد سیاست دانوں کو نشانہ بنایا گیا۔" نیز کہا کہ اس کارروائی میں انسدادِ دہشت گردی فورسز اور فوج شامل تھی۔
عراق کی خبر رساں ایجنسی (آئی این اے) نے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ وزارتِ تیل کے گذشتہ ماہ گرفتار کردہ اہلکار عدنان الجُمیلی کے اعترافی بیان کی بنیاد پر "بدعنوانی کے الزام میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے"۔
گرفتاریوں میں دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ "پارلیمنٹ کے وہ ارکان شامل تھے جن کا استثنیٰ ختم کر دیا گیا تھا،" سینئر اہلکار نے مزید کہا جن کی شناخت آئی این اے نے ظاہر نہیں کی۔
عراق کے نئے وزیرِ اعظم علی الزیدی نے عشروں سے ملک کو درپیش بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف لڑنے کا عزم کیا ہے۔
بدعنوانی کے خلاف جنگ کے اقدام میں حکام نے اس ماہ کے شروع میں الجمیلی کے خلاف بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 85 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم ضبط کی تھی جس میں کچھ زیرِ زمین چھپائی گئی تھی۔
چھاپوں کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور آئی این اے نے مزید تفصیلات یا مبینہ طور پر گرفتار اہلکاروں کے نام فراہم نہیں کیے ہیں۔
کرپشن سے بالاتر
ایک اور سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ قبل ازیں چھاپے بدعنوانی نیز "دھڑوں کی مالی اعانت اور ڈالر اور ایرانی تیل کی سمگلنگ" پر مارے گئے تھے۔ ان کا اشارہ تہران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی طرف تھا۔
حال ہی میں امریکی مہربانی سے عہدہ سنبھالنے والے الزیدی اس ماہ کے آخر میں واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔
بغداد میں ایک سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی آپریشن "واشنگٹن کے دورے کی تیاریوں کا حصہ ہے" تاکہ الزیدی کی اپنے وعدوں کی پاسداری ظاہر ہو۔
یہ چھاپے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ بغداد کے موقع پر بھی مارے گئے۔
تہران کے حمایت یافتہ گروپ جنہیں واشنگٹن نے دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ہوا ہے، کو ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کے درمیان الزیدی نے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
حالیہ ایران جنگ کے دوران تہران کی حمایت میں ان گروہوں نے لڑائی میں مداخلت کی اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں بغداد میں امریکی سفارت کاروں پر حملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا۔
انہیں عراق میں مزید امریکی سرمایہ کاری راغب کرنے کی امید ہے جس کی معیشت کی فوری بحالی کے لیے ضرورت ہے خاص طور پر جب تیل کی برآمدات میں تعطل کی وجہ سے اہم محصولات کا نقصان ہوا ہے۔