سعودی عرب کی جانب سے شام میں اسرائیلی در اندازی کی مذمت... حملے روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت خارجہ نے خطے میں قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے کھلی خلاف ورزیوں کے جاری رہنے پر مملکت کی جانب سے مذمت اور نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں تازہ ترین واقعہ شامی سرزمین کے اندر در اندازی اور صوبہ قنیطرہ اور صوبہ درعا کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنانا ہے۔

وزارت نے آج پیر کے روز ایک سرکاری بیان میں قابض اسرائیلی افواج کے ان اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا جنہیں پُر امن شہریوں کے لیے دہشت اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے زور دیا کہ شامی سرزمین کے اندر اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ایک خطرناک کشیدگی ہے جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے اور علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

وزارت خارجہ نے شامی سرزمین کی خود مختاری پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے اور 1974 میں دستخط شدہ فورسز کو الگ کرنے کے معاہدے کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔

سعودی عرب نے شام کی خود مختاری اور اس کی علاقائی سالمیت کی حمایت میں اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ممالک کی خود مختاری کے احترام اور ان کی سلامتی یا علاقائی سالمیت کو نقصان نہ پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں