شامی پارلیمنٹ سے (آرکائیو - رائٹرز)
شام کی پارلیمنٹ میں مقرر کی گئی 15 خواتین ارکان کون ہیں؟
صدرِ مملکت احمد الشرع کی جانب سے شامی پارلیمنٹ کے لیے نامزد کیے گئے اضافی ایک تہائی ارکان میں خواتین کی نمائندگی 21اعشاریہ4 فیصد رہی۔ صدر نے 70 نامزد ارکان میں 15 خواتین کو شامل کیا، جس کے بعد عبوری پارلیمنٹ میں خواتین کی مجموعی تعداد 22 ہو گئی۔
اس عبوری پارلیمنٹ کی مدت ڈھائی سال ہے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔اعلان کردہ نمایاں خواتین ارکان میں معروف شامی اداکارہ روزینا اللاذقانی بھی شامل ہیں، جن کا تعلق صوبہ حماہ سے ہے۔
شامی صدر احمد الشرع پارلیمنٹ میں (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
انہوں نےالہیبہ، عزت کا چوک، یاسمین کے انتظار میں، سخت نگرانی، سرخ، بہت سیاہ کوا، بدیعہ کی اولاد۔ سمیت متعدد مقبول شامی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔فہرست میں سماجی کارکن عائشہ الدبس کا نام بھی شامل ہے، جو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی شامی انتظامیہ میں دفترِ امورِ خواتین کی سربراہ مقرر ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
بعد ازاں خواتین کے کردار اور شرعی حوالوں سے ان کے بعض بیانات پر وسیع بحث بھی ہوئی۔اسی طرح ہدیٰ الاتاسی کو بھی پارلیمنٹ کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ وہ حمص سے تعلق رکھنے والی ماہرِ تعمیرات اور خواتین و بچوں کے حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ اس قومی کانفرنس کی تیاری کرنے والی کمیٹی کی رکن بھی رہ چکی ہیں، جو حکومتِ اسد کے خاتمے کے چند ماہ بعد منعقد ہوئی تھی۔
نمایاں ناموں میں اسراء المشہور بھی شامل ہیں، جن کا تعلق دیر الزور سے ہے۔ وہ مٹی کے علوم اور نباتات کی غذائیت کی ماہر ہیں اور اس سے قبل جنرل اتھارٹی فار ایگریکلچرل سائنٹیفک ریسرچ میں محقق اور شعبہ جاتی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ان کی متعدد تحقیقی مقالات سائنسی جرائد میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔
نامزد خواتین ارکان میں جامعات سے وابستہ شخصیات اور قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔ ان میں لارا قدید کا تعلق دمشق کے نواحی علاقے سے ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی محقق کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ تعلیمی اور تربیتی پالیسیوں سے متعلق متعدد سماجی اور ترقیاتی اقدامات میں بھی شریک رہی ہیں۔
فہرست میں میڈونا بشارہ بھی شامل ہیں، جن کا تعلق دمشق سے ہے۔ وہ انسانی حقوق، خواتین کے مسائل اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں اپنی خدمات کے باعث معروف ہیں۔
اسی طرح حنان ابراہیم البلخی کو بھی پارلیمنٹ کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ وہ 1976 میں دمشق میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دمشق یونیورسٹی کے کلیۂ ادبیات سے عربی زبان میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی سے مشرقِ وسطیٰ اور نوآبادیاتی دور کے بعد کے مطالعات (Postcolonial Studies) میں ماسٹرز کیا۔حنان البلخی 2011 میں شامی قومی کونسل کے قیام کے وقت اس کی رکن رہیں، جبکہ بعد ازاں وہ شامی قومی اتحاد (سیرین نیشنل کولیشن) میں بھی شامل ہو گئیں۔
سابقہ زیرِ حراست خاتون
سابقہ زیرِ حراست رہنے والی شخصیات سمیت مختلف سماجی خواتین کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں سماجی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں نجوۃ قصاص شامل ہیں ،جو حلب کی رہائشی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مشہور ہیں۔ اسی طرح ااسماء فرحان السباعی بھی شامل ہیں، جو ایک یونیورسٹی گریجویٹ ہیں اور اپنی والدہ کے ساتھ تقریباً 4 سال تک قید میں رہ چکی ہیں اور سماجی سرگرمیوں کے لیے جانی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ دعوۃ عبد الحمید الاحدب بھی شامل ہیں، جو ایک مذہبی شخصیت کی بیٹی ہیں جن کا حماہ صوبے میں خاص مقام ہے۔یہ فہرست صرف انہی ناموں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ساحلی علاقوں سے بھی خواتین شامل کی گئی ہیں، جن میں سميۃ مراد مراد شامل ہیں اور خواتین وکیلوں میں سميرۃ ايمن الوتار نمایاں ہیں۔ دیگر کم معروف شخصیات میں مرفت صبحي توتو، نجوۃ قصاص، فاطمۃ حيدر اور فاطمۃ اليوسف بھی شامل ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ دو تہائی ارکان کے انتخاب کے بعد ''مکمل ایک تہائی'' کے اعلان کے ساتھ مجلس الشعب کے اراکین کی کل تعداد 210 ہو جاتی ہے، جن میں 140 منتخب اراکین اور 70 وہ اراکین شامل ہیں، جنہیں صدرِ جمہوریہ نامزد کرتا ہے اور یہ سب ایک عارضی انتخابی نظام کے تحت ہوتا ہے۔