فلسطینی اسرائیلی فوجیوں کو اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے پرانے شہر کے بازار میں گشت کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کو حراست میں لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رات کے ایک بجے کے ذرا بعد فلسطینی شہری عبدالرحمان بدر کو اپنے گھر کے دروازے پر فوجیوں کے خوفناک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ عبدالرحمان بدر مقبوضہ مغربی کنارے کے ہیبرون شہر کے فلسطینی شہری ہیں۔ انہوں نے بتیا کہ بس تھوڑی ہی دیر میں اسرائیلی فوجی ان کے دروازے پر پہنچ گئے اور وہ انہیں نہیں ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ اس لیے کہ ان کی اہلیہ بیمار قیدی فلسطینیوں اور عام فلسطینی مریضوں کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رکن ہیں اور مریضوں کو ادویات فراہمی میں کردار ادا کرتی ہیں۔

فوجیوں نے کہا تمہیں گرفتار کرنے نہیں آئے بلکہ تمھاری بیگم کو گرفتار کرنے آئے ہیں جس سے ہم تفتیش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسی وقت ان کی اہلیہ عطف بدر کو حراست میں لے کر وہاں سے لے گئے۔

وہ ان 5 فلسطینی خواتین میں سے ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے سے ایک ہی رات میں گرفتار کیا ہے۔ ہیبرون کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں بھی اسرائیلی فوج نے رات سے صبح تک کارروائیاں کیں اور خواتین کو گرفتار کیا۔ زیر حراست لی گئی فلسطینی خواتین کے خاندانوں اور انسانی حقوق گروپ کے مطابق رام اللہ، نابلس اور بیت لحم سے فلسطینی خواتین کو اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا۔

عام طور پر اسرائیلی فوج مردوں اور بچوں کو بڑی تعداد میں گرفتار کرتی رہتی ہے اور انہیں برس ہا برس جیلوں میں قید رہنا پڑتا ہے۔ ان کا قصور صرف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران اس پر پتھراؤ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ان دنوں فلسطینی خواتین کو بھی گرفتار کرنے میں تیزی آگئی ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے کلب کے سربراہ عبداللہ الزغاری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی خواتین اور بچیوں کو بڑی تعداد میں حراست میں لے رہی ہے۔ وہ خواتین جو سیاسی قیدیوں کو انسانی بنیادوں پر مدد دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا جس طرح اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو بلا امتیاز نشانہ بنا رہی ہے اس سے نہیں لگتا کہ آئندہ دنوں اس قسم کا کوئی امتیاز باقی رہ سکے گا کہ مردوں کو گرفتار کرنا ہے یا خواتین کو۔

انہوں نے کہ خواتین اسیران کی تعداد میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے اگرچہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید 9300 فلسطینیوں میں سے کم تعداد میں ہیں۔ فلسطینی خواتین اور بچیوں کی نظر بندی حالیہ کچھ عرصے میں دو گنا ہو گئی ہے۔ جبکہ 2026 میں اس تعداد میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قیدیوں سے متعلق بنائے گئے کلب کے اعداد و شمار کے مطابق جن لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے وہ اسرائیلی قبضے کے ناقدین میں سے تھے یا فلسطینی سیاسی جماعتوں کا حصہ تھے۔ ان میں یونیورسٹی میں فلسطینی حقوق کی بات کرنے والے طلبہ رہنما بھی شامل تھے۔

الزغاری نے کہا اکثر کو بغیر کسی الزام کے جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ یہ اسرائیلی فوج کا معمول ہے کہ وہ بہت سارے لوگوں کو بغیر کسی الزام اور مقدمے کے جیلوں میں بند کر دیتی ہے۔ یہ قید کم از کم 6 ماہ کی ہوتی ہے بعد ازاں اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

فلسطینی امریکیوں سے تعلق رکھنے والی ساما صافی بھی انہی میں سے ایک ہیں جو فٹبال کی کھلاڑی ہیں اور انہیں پچھلے دنوں گرفتار کیا گیا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ جن خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر انہیں شبہ ہے کہ وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی خاندانوں کو نہیں معلوم کہ زیر حراست لی گئی خواتین کو کہاں رکھا گیا ہے اور ان کے باقی رشتہ داروں کو کہاں رکھا گیا ہے۔ ان کے خاندانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان خواتین کو کس وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

نابلس سے تعلق رکھنے والے وائیل الفقیہ نے کہا ان کی اہلیہ کو بھی اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا ہے۔ ان کو پہلے بھی اسرائیلی فوج گرفتار کر چکی ہے۔ ان کی اہلیہ بھی عطاف بدر کی طرح مریضوں کے لیے ادویات جمع کرتی ہیں اور ان کے علاج کے لیے کوشش کرتی ہیں۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ ہماری خواتین کو اسرائیلی فوج نے گرفتاری کے بعد کہاں رکھا ہے۔

عبدالرحمان بدر نے کہا انہیں پورا یقین ہے کہ ان کی اہلیہ کا مریضوں کے لیے علاج معالجے کا کام ہی ان کے لیے خطرے کا باعث بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کو گھر سے باہر لے جایا گیا اور گلی میں لے جاتے ہی ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے۔ اس دوران فوجیوں نے مجھے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی اور میں اور میرا بیٹا کھڑکی سے ہی چیخ وپکار کرتے رہے۔ انہوں نے میری اہلیہ کی آنکھوں پر بھی پٹی باندھی اور ایک فوجی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں