قطری وفد کا ایک رکن 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے جھیل لوسرن کے قریب برگن اسٹاک لگژری ہوٹل کمپلیکس میں ریاستہائے متحدہ، ایران، پاکستان اور قطر کے درمیان چار فریقی اجلاس سے قبل ایڈجسٹمنٹ کر رہا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانا ہے۔ (اے ایف پی)
ثالثی کرانے والوں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور جمعرات کو مکمل ہوگیا ہے۔ ان کی کوشش تھی کہ مذاکرات کے حوالے سے پیش قدمی ہو اور حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان گولہ باری کے تازہ واقعات سے جو کشیدگی بڑھی ہے اسے کم کیا جائے۔
ماہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور قطر کی کوششوں سے ممکن ہوئی تھی۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق اگلے 60 دنوں کے دوران جنگ رکی رہے گی اور انہی ساٹھ دنوں میں ایک حتمی معاہدے کے لیے امریکہ وایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے نتیجے میں ایک جانب اسرائیل و امریکہ کی طرف سے مشترکہ طور پر 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے حاتمے کی امید پیدا ہوئی ، مزید یہ کہ اسی کی بدولت آبنائے ہرمز کے فوری طور پرکھولے جانے پر اتفاق ہوا۔
14 نکات پر مشتمل اس مفاہمتی یادداشت میں ایک ٹائم لائن بھی متعین کی گئی ہے کہ چیزوں کو حتمی حل کی جانب لایا جا سکے۔ انہی نکات میں آبنائے ہرمز کے کھولے جانے سے لے کر ایرانی جوہری پروگرام کی بندش تک اور ایران کے خلاف عاید کی پابندیوں کے خاتمے سے ایرانی فنڈز اوراثاثوں کی بحالی تک کئی اہم امور بارے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی راہ عمل دی گئی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں دوحہ میں ہونے والی آخری بالواسطہ کوشش میں جو بدھ کے روز سے شروع ہوئی تھی اس میں کیا امور زیر بحث رہے اور کن چیزوں پر اتفاق کر لیا گیا۔
قطر اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں ساتھ الگ سے ملاقاتیں کرکے مثبت پیش رفت ممکن بنائی۔ یہ بات بدھ کے روز شروع ہونے والی اس مذاکراتی کوشش کے اختتام پر ملکوں کی طرف سے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
اس موقع پر ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایرانی وفد کے قائد کے طور پر کہا باہمی رابطوں کا چینل قائم کرنے پر جمعرات کے روز فریقین متفق ہوگئے ہیں۔ یہ اتفاق بھی پایا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی جو بھی خلاف ورزیاں ہوئیں ان کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ غریب آبادی کے مطابق اس بات چیت میں ایرانی منجمد شدہ اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ ایران نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے کہ ان اثاثوں کی بازیابی اور واگزاری کو تصفیے کا حصہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا حکام نے پہلے چھ ارب ڈالر کی ایران کو واپسی کے بعد اس کے استعمال پر غور کیا۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ایران اس رقم سے جو کچھ بھی خریدنا چاہے گا اسے وہ فراہم کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر سوار ہوتے ہوئے رپورٹروں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے کی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔
اس معاملے سے جڑے ایک ذریعے نے 'اے ایف پی' کو بتایا دوحہ میں بالواسطہ طور پر ہونے والے مذاکرات کا 'فوکس' آبنائے ہرمز کے کھولے جانے پر ہے۔ جبکہ جوہری پروگرام پر بعد ازاں گہرائی میں باتیں ہوں گی۔
آگے کیا ہوگا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے بالواسطہ مذاکرات ایرانی مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے بعد ہوں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر 86 سالہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل نے اجتماعی طور پر 28 فروری کو ان کے گھر کے اندر بمباری کر کے قتل کیا تھا۔ یہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جنگ کا پہلا دن تھا اور اس بوڑھے لیڈر کو قتل کرنا پہلی بڑی کامیابی تھی۔
اسی روز مناب میں پرائمری سکول کی 170 کے قریب بچیوں اور ٹیچرز کا قتل کر کے بھی دونوں نے بڑی اور اجتماعی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ علی خامنہ کے قتل کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈربنا لیا گیا تھا۔ اب مجتبیٰ خامنہ ای ہی ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر موجود ہیں۔
علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا عمل ہفتے کے روز 4 جولائی کو تہران میں شروع ہوگا۔ جبکہ تہران میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جمعہ کے روز سے شروع ہوجائے گا۔ یاد رہے تہران میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان بڑے اجتماعات جمعہ کا موضوع بھی علی خامنہ ای کی زندگی اور خدمات ہوگا۔
قطر اور پاکستان کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہیں۔ اس لیے اگلی مذاکراتی نشست بھی جلد سے جلد ممکن ہو جائے گی۔ لیکن علی خامنہ ای کے جنازے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔ مقتول سپریم لیڈر کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار کے احاطے میں ہوگی۔ خیال رہے یہ مشہد خامنہ ای کی جائے پیدائش بھی ہے۔
زمین پر پیش آنے والے واقعات
جب سے امریکہ و ایران نے مفاہمتی یادداشت پردستخط کیے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان خلیج میں گاہے گاہے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے دعوے کا اطلاق چاہتا ہے اس لیے بھی فائرنگ اور کشیدگی ہوگئی۔
اس سلسلے کا بڑا اور آخری واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکہ کی سنٹرل کمانڈ نے 10 ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ یہ پچھلے ہفتے کے اختتام کا موقع تھا۔ ایران نے بھی کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ کویت اور بحرین دونوں نے ان ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ تاہم ان حملوں کے بعد قطر میں بالواسطہ مذاکرات کی صورت گری ہو گئی۔
لبنان کے محاذ پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قدرے خاموشی ہے۔ اگرچہ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ میں بدھ کی شام اسرائیلی فوج نے بمباری کی ہے۔ تاہم خبر ایجنسی نے فوری طور پر کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا تھا۔
ادھر جمعرات کے روز اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کا یہ اہلکارعلی الطاہر نامی پہاڑی کے زیر زمین حصے میں بنے ٹھکانے سے باہر آیا تھا۔
اسرائیل نےلبنان نے ساتھ امریکی سرپرستی میں کیے جانے والے معاہدے کے باوجود لبنان سے اپنے فوجی انخلا کی شروعات نہیں کی ہیں۔ جبکہ لبنان کو اس انخلا کا انتظار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی فوج کو انخلا کا حکم دینے کے بجائے کسی نئے حکم تک لبنانی پوزیشنیوں پر موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔