علي لاريجاني رئيسية (أرشيفية-رويترز)
امریکی حکام کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ مذاکرات کار ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو قتل کرنے کے لیے پہلے سے تیار کردہ اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنا دیا تھا۔ اب اس حوالے سے دیگر تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ان معلومات نے ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان واضح اختلافات اور تضاد پر روشنی ڈالی ہے۔ معاملے سے واقف امریکی حکام نے ’’ واشنگٹن پوسٹ ‘‘ کو بتایا ہے کہ جہاں اسرائیل نے ایرانی نظام کو گرانے اور اس کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی، وہیں امریکی انتظامیہ نے جلد ہی یہ جان لیا کہ یہ ہدف جنگ کے دوران حاصل نہیں ہو سکے گا۔ لہذا اس نے ایرانی فوجی صلاحیتوں اور بحری بیڑے کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر بعد میں مارچ اور اپریل میں امریکہ نے مذاکرات کی کوشش کی اور اسرائیل کو ان عملیت پسند سیاسی رہنماؤں کو قتل کرنے کے خلاف خبردار کیا جو کسی بھی آنے والے مذاکرات میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جنگ کے مقاصد کا تضاد
اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ کے سابق اہلکار آرون ڈیوڈ ملر ، جنہوں نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک انتظامیہ کے مشیر کے طور پر کام کیا ہے، نے کہا کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے مقاصد کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس اصرار کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ کسی بھی ایسے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے امریکہ نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔
باخبر حکام نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب کی جانب سے گزشتہ مارچ کے وسط میں ایرانی قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار علی لاریجانی کو قتل کیے جانے کے بعد دونوں اتحادیوں، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مزید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ایک مغربی عہدیدار نے بتایا کہ تبدیلی کا نقطہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل نہیں تھا بلکہ لاریجانی کا قتل تھا۔ واشنگٹن کسی ایسے ایرانی عہدیدار کی تلاش میں تھا جس کے ساتھ معاملہ کیا جا سکے۔ تاہم اچانک لاریجانی کی صورت میں ایسا عہدیدار موجود ہی نہ رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ مارچ میں کہا تھا کہ اسرائیلی قتل و غارت گری کی مہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ معاملہ تھوڑا مشکل ہے، انہوں نے تقریباً سب کو ہی ختم کر دیا ہے، میں انہیں مارنا نہیں چاہتا۔
ایران نے گزشتہ 17 مارچ کو باضابطہ طور پر 67 برس کی عمر میں لاریجانی، ان کے بیٹے مرتضیٰ، ان کے ایک معاون اور ان کے متعدد ساتھیوں کی اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے کہا تھا کہ قتل کی یہ کارروائی 16 مارچ کی صبح سویرے تہران کے شمال مشرق میں پردیس کے علاقے میں ان کی بیٹی کے گھر کو نشانہ بنا کر کی گئی۔ اس کارروائی کو امریکہ اور اسرائیل کے جنگی طیاروں نے انجام دیا۔
یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز کے اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے تہران کی ایک سڑک پر "یوم القدس" کے جلوس میں شرکت کے چند دن بعد لاریجانی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کا اعلان کیا تھا۔