وزير الخارجية الإيراني عباس عراقجي (في الوسط) ورئيس البرلمان الإيراني محمد باقر قاليباف (إلى اليسار) في سويسرا، 20 يونيو 2026 رويترز

اسرائیل نے عراقچی اور قاليباف کو قتل کرنے کے منصوبے سے متعلق رپورٹ کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کے روز نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ اس رپورٹ کی صحت کی تردید کی ہے جس میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ایکس پلیٹ فارم پر شائع کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور ایرانی مذاکرات کاروں کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ حالیہ کہانی، حسب معمول، جھوٹی خبر اور حقیقت سے دور سراسر من گھڑت ہے۔

واضح رہے یہ اسرائیلی تردید اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی حکام نے اسرائیل کو عراقچی اور قاليباف کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی اس خوف سے کہ ان کا قتل جنگ کے خاتمے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کو ناکام بنا دے گا۔

اسرائیلی فہرست

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو معلوم ہوا تھا کہ قاليباف اسرائیلی اہداف کی فہرست میں شامل ہیں اور انہوں نے تل ابیب سے انہیں نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے تہران کو اعلیٰ ایرانی حکام کو نشانہ بنانے والے ممکنہ خطرات کے بارے میں انتباہات بھیجے تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران نے مذاکرات کے دوروں کے دوران سکیورٹی کے اقدامات سخت کر دیے اور امریکی ضمانتیں مانگیں کہ ایرانی وفد کے خلاف کوئی اسرائیلی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی وفد کو لے جانے والے طیارے کی پاکستانی لڑاکا طیاروں نے سکارٹ کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے ذکر کیا تھا کہ قاليباف جنگ کے دوران قتل کی دو کوششوں سے بال بال بچے ہیں۔ اسرائیل نے ایک پہاڑ کے نیچے پناہ گاہ کے اندر اعلیٰ ایرانی حکام کے ایک خفیہ اجلاس کو نشانہ بنایا تھا تاہم اسرائیلی حکومت نے ان تمام کہانیوں کی تردید کرتے ہوئے اصرار کیا کہ یہ من گھڑت ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو تہران کا دورہ کرنے والے پاکستانی آرمی چیف کا استقبال کیا۔ یہ ملاقات علاقائی امور پر دونوں ملکوں کے درمیان جاری ہم آہنگی کے دوران ہوئی ہے۔

نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ

اس کے متوازی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں فریقوں نے بات چیت کے دوران امریکہ میں جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ملاقات کی تاریخ کا تعین نہیں کیا اور نہ ہی اس کے ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان یہ رابطہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان کے چند دن بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کو دی جانے والی امریکی مالی امداد کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اسے "سوشل ویلفیئر" سے تشبیہ دی تھی، یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فریقین کے درمیان متعدد امور، جن میں سب سے نمایاں ایرانی معاملہ ہے، پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی چینل 14 کے ساتھ ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ میں امریکی امداد کو روکنا چاہتا ہوں۔ یہ سوشل ویلفیئر کی طرح ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول اسرائیلی معیشت اب چھوٹی معیشتوں میں سے نہیں رہی بلکہ امریکی مدد کی ضرورت کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور اپنے مالی بوجھ اٹھانے کے قابل ہو چکی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں