الرئيس الإيراني مسعود بزشكيان، ومحمد باقر قاليباف، ورئيس القضاء في إيران غلام حسين محسني إيجئي، وعباس عراقجي في مراسم تشييع علي خامنئي - 3 يوليو 2026 رويترز
قاليباف خامنہ ای کی آخری رسومات میں آبدیدہ، عراقچی کے تاثرات پر بحث
سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو نے وسیع بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران شدتِ جذبات کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی دوران ان کے ساتھ کھڑے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے، جن کی جانب سے دی جانے والی ''پراسرار'' نظروں نے بھی خاص توجہ حاصل کی اور مختلف تبصروں کو جنم دیا۔
نیم سرکاری خبر ایجنسی ''تسنیم'' کی جانب سے نشر کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران محمد باقر قالیباف کو جذباتی کیفیت میں آبدیدہ اور شدید روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو سرکاری و عوامی سطح پر منعقدہ بڑے اجتماع کے دوران ریکارڈ کی گئی۔
اسی موقع پر وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی قالیباف کے ساتھ کھڑے نظر آئے، جو خود بھی جذباتی دکھائی دے رہے تھے، تاہم ان کے اطراف اور قالیباف کی جانب ان کی نظریں مختلف حلقوں میں ''پراسرار'' اور الجھن پیدا کرنے والی قرار دی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قالیباف نے ایرانی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھرپور شرکت کریں اور ان کا کہنا تھا کہ عوامی شرکت دنیا کو ایک پیغام دے گی، جسے انہوں نے ''خون کا بدلہ لینے ''سے تعبیر کیا، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی ''ارنا'' نے رپورٹ کیا۔
دوسری جانب خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر عدم موجودگی بھی توجہ کا مرکز بنی رہی، حالانکہ اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور فوجی و سیاسی قیادت اس موقع پر موجود تھی۔
یاد رہے کہ ایران میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا ایک ہفتے پر محیط سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ ان کی تدفین میں تقریباً 125 دن کی تاخیر ہوئی جس کی وجہ جنگ اور سکیورٹی صورتحال بتائی گئی۔خامنہ ای کے جسد خاکی کو تہران کے مصلیٰ امام خمینی میں رکھا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر ایرانی حکام کے علاوہ غیر ملکی شخصیات بھی موجود تھیں جن میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، روس کے سابق صدر دیمتری میدویدیف اور دیگر ممالک کے وفود شامل تھے۔
بعد ازاں منصوبے کے مطابق جسد خاکی کو قم، پھر عراق کے نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا اور آخرکار مشہد میں امام رضا کے روضے کے قریب تدفین کی جائے گی۔
تہران میں اس موقع پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جن کے تحت 65 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے، اہم شاہراہیں بند رہیں، ٹرانسپورٹ سسٹم 24 گھنٹے فعال رہا، اور اسپتالوں و ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تاکہ بڑے عوامی اجتماع کو سنبھالا جا سکے۔