رئيس البرلمان الإيراني محمد باقر قاليباف في الوسط (أرشيفية- رويترز)

قالیباف کا واشنگٹن کو سخت جواب: '' ہم اپنے پیسوں کے تصرف میں خودمختار ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے اعلیٰ حکام جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، کی جانب سے ایران کی معاشی صورتحال سے متعلق بیانات پر بالواسطہ ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بعض لوگ اپنے ملک کے مسائل ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قالیباف نے گزشتہ روز جمعہ کی شب اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا: صور کریں کہ آپ کے ملک میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ فوڈ اسٹیمپ پر انحصار کرتے ہوں اور پھر آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا کہیں۔ یہ کوئی بیان نہیں بلکہ دراصل اپنے ہی حالات کی عکاسی ہے۔

Imagine having forty-something million of your own citizens on food stamps and calling another nation hungry. This is not a proclamation. This is a projection. Keep your SNAP advice.
Our assets, our choices. Mind your malnutrition rates.

— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) July 3, 2026

قالیباف نے مزید لکھا: اپنے فوڈ اسٹیمپ پروگرام (SNAP) سے متعلق نصیحتیں اپنے پاس رکھیں۔ ہماری دولت ہماری ہے، ہمارے فیصلے ہمارے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ اپنے ہاں غذائی قلت کی شرح پر توجہ دیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ،جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران پر دباؤ کی وجہ سے اس کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے اور مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے بڑھ کر مبینہ طور پر 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فریق نے جاری مذاکرات میں ان کی شرائط تسلیم کر لی ہیں اور یہ کہ ایران کے منجمد فنڈز کو امریکی زرعی اجناس، خاص طور پر مکئی اور گندم خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں بیرون ملک منجمد ایرانی رقوم کے معاملے اور آبنائے ہرمز کے انتظام پر بات چیت جاری ہے۔

یہ بیانات اس تنازع کے تناظر میں آئے ہیں جس میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے، خاص طور پر اس معاملے پر کہ منجمد ایرانی فنڈز کو کن مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی رقوم کے استعمال میں مکمل خود مختار ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز صرف امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں