مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین میں شرکت کے خواہاں ہیں، مگرانہیں منع کر دیا گیا: ذرائع
مقتول ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کا آغاز آج ہفتے کے روز ہو چکا ہے جو پانچ ایرانی شہروں میں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی۔ اس دوران ہزاروں ایرانی شہریوں اور غیر ملکی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال ان کے بیٹے اور موجودہ رہنما مجتبی خامنہ ای کی شرکت کے حوالے سے ہے۔ وہ مارچ میں اپنے تقرر کے بعد سے عوامی سطح پر نمودار نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس دن سے جب سے تہران پر اسرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہوئی ہے، وہ منظر عام سے غائب ہیں۔
اس حوالے سے خامنہ ای کی تدفین کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ علی اکبر پورجمشیدیان نے گذشتہ ہفتے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ رہنما کی شرکت کا معاملہ ان کے دائرہ اختیار یا معلومات میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس بارے میں کوئی انتظام ہوا تو ان کا دفتر تفصیلات کا اعلان کرے گا، تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔
اہلیہ کی تعزیتی تقریب میں عدم شرکت
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جو ایک محفوظ ٹھکانے پر مقیم بتائے جاتے ہیں، ان تک رسائی اور ان سے رابطے پر سخت پابندیاں ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ زہرا حداد عادل کی تعزیتی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے جو بدھ کی شام تہران میں منعقد ہوئی تھی۔ زہرا حداد عادل بھی اسی اسرائیلی حملے میں اپنے نوعمر بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد سمیت ماری گئی تھیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
خامنہ ای کے بہت سے حامی تدفین کے دوران انہیں دیکھنے کی امید کر رہے تھے۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے دو ارکان جو تدفین کے انتظامات سے واقف ہیں، نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی کوششوں کے خدشات یا ان کی نقل و حرکت کے تعاقب کے ذریعے ٹھکانے کا پتہ چلنے کے ڈر سے ان کی سکیورٹی ٹیم نے ان کی شرکت کے خیال کو مسترد کر دیا۔
ان حکام نے مزید بتایا کہ 56 سالہ عالم دین نے حکام کو مطلع کیا تھا کہ وہ کم از کم تدفین کی تقریبات کے کچھ حصوں میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ مشہد شہر میں امام رضا کے مزار پر 9 جولائی کو ہونے والی تدفین کی تقریب میں شرکت کرنے اور اپنے والد کی نماز جنازہ کی امامت کرنے کے خواہشمند ہیں۔
یاد رہے کہ محمد حسین خوشوقت جن کی بہن کا رشتہ آنجہانی رہنما کے دوسرے بیٹے مصطفی خامنہ ای سے ہے نے گذشتہ جون میں تصدیق کی تھی کہ سکیورٹی ماہرین نے نئے رہنما کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں نمودار نہ ہوں اور حتی کہ اپنی آواز کی ریکارڈنگ جاری کرنے سے بھی گریز کریں۔
تہران میں تدفین کی تقریبات
تہران میں ہفتے کے روز ہزاروں ایرانیوں کی شرکت کے ساتھ تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تہران کے بڑے مصلیٰ میں تابوت پر ان کی سیاہ پگڑی رکھی گئی۔ میت پیر تک مصلیٰ میں رہے گی جس کے بعد ایک جنازے کے جلوس میں اسے دارالحکومت کی سڑکوں پر لایا جائے گا اور پھر اسے قم شہر منتقل کیا جائے گا اور 8 جولائی کو عراق میں علوی اور حسینی مقامات کی زیارت کے لیے لے جایا جائے گا۔
بعد ازاں میت کو واپس ایران لایا جائے گا اور 9 جولائی کو مشہد میں امام علی رضا کے مزار کے پہلو میں دفن کیا جائے گا جو خامنہ ای کا آبائی شہر ہے۔ اس تدفین میں خامنہ ای کے ساتھ ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کو بھی دفنایا جائے گا جو ان کے ساتھ مارے گئے تھے، جن میں ان کے بیٹے مجتبی کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔