ایک ڈرون منظر آبنائے ہرمز میں جہازوں کو دکھا رہا ہے، جیسا کہ مسندم، عمان، 15 جون 2026 سے دیکھا گیا ہے۔ (رائٹرز)
آبنائے ہرمز : جہازوں کے گزرنے کی فیس لیں گے مگر دوست ملکوں کے ساتھ الگ برتاؤ ہوگا
چین میں ایرانی سفیر نے اس امر پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے پر فیس لے گا۔ تاہم دوست اقوام کے ساتھ خصوصی نوعیت کا برتاؤ ہوگا۔ چین میں ایرانی سفیر نے اس امر کا اظہار ہفتہ کے روز اس وقت کیا ہے جب اس سے پہلے واشنگٹن ایران کے اس دعوے کو مسترد کر چکا ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ و ایران کے درمیان ابتدائی معاہدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی صورت میں 18 جون کو ہوا تھا۔ جس میں طے کیا گیا ہے کہ 60 دنوں کے اندر اندر معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ایرانی سفیر عبد الرضا رحمانی فاضلی نے ورلڈ پیس فورم سے بیجنگ میں خطاب کے دوران کہا ان کا ملک اومان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے سلسلے میں تعاون اور اشتراک کے لیے کوشاں ہے۔ تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے نیا انتظامی طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا آبنائے ہرمز ایرانی پانیوں کا حصہ ہے۔ اس لیے یہ یقینی بات ہے کہ ہم اس کے واجبات وصول کریں۔
فاضلی نے مزید کہا کہ یہ واجبات 'ٹول' کی شکل میں نہیں ہوں گے۔ نئے انتظامات کے تحت گزرنے والوں کو سلامتی کی گارنٹی دی جائے گی اور یہاں سے گزرنے کے دوران جہازوں کی نگرانی کی جائے گی۔ نیز آبنائے ہرمز کے ماحولیاتی ماحول کو بھی اس نئے بندوبست کے تحت دیکھا جائے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں گزرنے والے جہازوں کے ماحولیاتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید واضح کیا ہم اپنے دوست ملکوں کے ساتھ خصوصی برتاؤ کریں گے۔ خاص طور پر ان دوست ملکوں کے ساتھ جو اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
خیال رہے آبنائے ہرمز سے عالمی منڈیوں کے لیے جانے والے تیل اور توانائی کے دیگر وسائل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کے لئے تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ ہے۔