چار جولائی 2026 کو تہران، ایران میں سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سوگواران عوامی الوداعی تقریب میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (رئیٹرز)

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور حماس کی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ محمد درویش اور باسم نعیم شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں حزب اللہ اور حماس کے نمائندگان نے ہفتے کے روز مقتول ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ان کے سفیروں نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

تہران نے برسوں سے فلسطین کی حماس، لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کو مدد فراہم کی ہے۔ ان تمام گروپوں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ایران کو بین الاقوامی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران نے اپنے اتحادیوں کے اسرائیل مخالف نیٹ ورک کو "محورِ مزاحمت" نام دیا ہے جس میں عراق میں موجود مسلح گروہ بھی شامل ہیں۔

گروپ نے لبنانی میڈیا کو بتایا کہ تہران میں حزب اللہ کے وفد کی قیادت سینئر عہدیدار اور سابق وزیر محمد فنیش کر رہے تھے اور اس میں اہلکار اور ہلاک اور زخمی ہونے والے ارکان کے افرادِ خانہ بھی شامل تھے۔

دریں اثنا حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے وفد کی قیادت سیاسی بیورو کے سربراہ محمد درویش کر رہے تھے اور اس میں بیورو کے دیگر اراکین جیسے باسم نعیم شامل تھے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران میں ہفتہ کے دن کی تقریبات میں فلسطینی گروپ اور حماس کے اتحادی اسلامی جہاد کے رہنما زیاد النخالہ اور حوثیوں کے سینیئر رکن ضیف اللہ الشامی نے بھی شرکت کی۔mi

زیادہ تر غیر ملکی حکام اور معززین نے جمعہ کے روز خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے 1989 سے ایران پر حکمرانی کی اور 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملے میں 86 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے کئی افراد اور اعلیٰ حکام کے ساتھ جاں بحق ہو گئے تھے۔

ہفتے کے روز ایرانی دارالحکومت کے مذہبی احاطے میں مرحوم سپریم لیڈر کو ان کے آخری سفر پر روانہ کرنے کے لیے ایک جمِ غفیر جمع تھا۔ وہ اپنے دور میں اہم ریاستی پالیسیوں میں حتمی رائے دیا کرتے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں