من مصلى طهران الكبير (أرشيفية- رويترز)

ایران میں رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا آغازایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق پیر کے روز تہران میں ایران کے مرحوم رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے تین افراد کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا آغاز ہو گیا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (IRIB) نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات چند لمحے قبل دارالحکومت تہران میں شروع ہوئیں، جبکہ جنازے میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں شہریوں کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی پرچم میں لپٹے علی خامنہ ای کے تابوت اور ان کے خاندان کے ان افراد کے تابوت، جو 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، ایک ٹرک کے ذریعے تہران کی سڑکوں سے گزارے جائیں گے۔ بعد ازاں انہیں مہر آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب منتقل کیا جائے گا۔

ایرانی حکومت کو توقع ہے کہ دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ ان تقریبات میں شرکت کریں گے تاکہ حکومت کے لیے عوامی حمایت کا اظہار کیا جا سکے۔

گزشتہ تین روز سے تہران کے مصلیٰ میں جاری سرکاری اور عوامی تعزیتی تقریبات میں ہزاروں افراد نے علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے خاندان کے چار افراد کو آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔


حکام کے مطابق پیر کو نکالے جانے والے جنازے کے جلوس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔منتظمین کے مطابق جنازے کا جلوس پیر کی صبح 6 بجے (30 :2گرینچ معیاری وقت) روانہ ہونا تھا۔ یہ جلوس تقریباً 10 سے 12 گھنٹے تک جاری رہے گا، جس کے دوران وہ تہران کی اہم شاہراہوں اور مرکزی چوراہوں، جن میں انقلاب اسٹریٹ (انقلاب) اور آزادی اسکوائر (آزادی) شامل ہیں،ان سے گزرے گا۔

ایرانی حکام نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق صرف تہران میں جنازے کی تقریبات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

تاہم 36 برس سے زائد عرصے تک ایران کی قیادت کرنے والے علی خامنہ ای کے جنازے کا یہ آخری مرحلہ نہیں ہوگا۔ ان کے تابوت کو مزید مذہبی تقریبات کے لیے دارالحکومت کے جنوب میں واقع شہر قم منتقل کیا جائے گا۔

اس کے بعد 8 جولائی کو جنوبی عراق میں بھی تعزیتی تقریب منعقد ہوگی، جس کے بعد میت کو دوبارہ ایران لایا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد (شمال مشرقی ایران) میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔اتوار کو علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر ان کے تین بیٹے، مصطفیٰ، مسعود اور میثم موجود تھے، جبکہ ان کے بیٹے مجتبیٰ، جو اپنے والد کے بعد نئے رہبر منتخب ہوئے ہیں، تقریب میں نظر نہیں آئے۔

رپورٹس کے مطابق وہ جنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔سرکاری ٹیلی وژن کی نشر کردہ تصاویر کے مطابق نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں علی خامنہ ای کے تابوت کے قریب ایران کے متعدد اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنما بھی موجود تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں