الرئيس الأميركي دونالد ترامب ورئيس الوزراء الإسرائيلي بنيامين نتنياهو (فلوريدا - 29 ديسمبر - رويترز)

ٹرمپ کے ساتھ میرے تعلقات بہترین ہیں، مگر اختلافِ رائے بھی ہوتا ہے:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ''فاکس نیوز'' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر ردعمل دیا، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں سامنے آئی تھیں۔

نیتن یاہو نے کہا:ہمارے تعلقات بہترین ہیں اور یہ دو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کی بہترین مثال ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:ہمارے خیالات 99 فیصد معاملات میں ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن ہر خاندان اور ہر قریبی دوستی کی طرح کبھی کبھار اختلافِ رائے بھی ہو جاتا ہے۔ ہم ان اختلافات پر کھل کر بات کرتے ہیں اور عموماً انہیں حل بھی کر لیتے ہیں۔

نیتن یاہو کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ویب سائٹ ''اکسیوس'' سے گفتگو میں کہا تھا کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اس تعلق میں اصل رہنما کون ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات کے دوران ٹرمپ نے کئی مواقع پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم امریکا کے ''شکر گزار نہیں'' ہیں، جبکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے باعث انہیں ''انتہائی مشکل آدمی'' اور ''پاگل ''بھی قرار دیا۔

ٹرمپ نے ''اکسیوس'' کو یہ بھی بتایا کہ امکان ہے نیتن یاہو آئندہ چند روز میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔

جنوبی لبنان کی صورتحال

ایک اور موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کے لیے اسرائیل میں ضم کیے جانے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے ''فاکس نیوز'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:لبنان کے بعض مسیحی دیہات نے حقیقتاً اسرائیل میں شامل ہونے کی درخواست کی، کیونکہ ہم انہیں حزب اللہ اور اس کے انتہا پسند جنگجوؤں سے تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جو انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں مسیحیوں کے ساتھ بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 2 مارچ کو لبنان تک پھیل گئی، جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے 28 فروری کو ایران پر ہونے والی پہلی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردِعمل میں کیے گئے۔

اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملوں کی وسیع مہم شروع کی، زمینی کارروائیاں کیں اور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کے لیے بارہا انخلا کے انتباہات جاری کیے۔ لبنانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 4,300 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، جن میں بڑی تعداد جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کی تھی۔

جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات بھی اسرائیلی گولہ باری اور فضائی حملوں کی زد میں آئے، جس کے باعث بہت سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ تاہم ان میں سے بیشتر دیہات کے رہائشی اسرائیلی انخلا کی وارننگز کے باوجود اپنے گھروں، گرجا گھروں اور زرعی زمینوں کی حفاظت کے لیے وہیں موجود رہے، اگرچہ بعض دیہات جزوی یا مکمل طور پر خالی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے کئی ایسے قصبوں کو انتباہ جاری کیا جہاں مسیحی آبادی اکثریت میں ہے، وہاں کے لیے ہدایت دی ہیں کہ وہاں ''غیر متعلقہ افراد'' کو داخل نہ ہونے دیا جائے، جس سے مراد حزب اللہ کے جنگجو تھے۔ یہ ہدایات مبینہ طور پر ان ٹیلی فون رابطوں کے ذریعے دی گئیں جو اسرائیلی افواج مقامی بلدیاتی نمائندوں اور قصبوں کے ذمہ داران سے کرتی رہی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک علیحدہ سرکاری خطاب میں کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک یہ موجودگی ''شمالی اسرائیل اور تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہو۔''

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں شقيف قلعے کے اطراف تعینات فوجیوں کے معائنے کے دوران کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کی سرزمین سے خطرات کے خاتمے کے لیے سخت کارروائیاں جاری رکھے گی اور جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر جارحانہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں اس فریم ورک معاہدے کے باوجود جاری ہیں جو امریکا کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پایا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں