Presidential Leadership Council head Rashad al-Alimi leads an emergency meeting. (Supplied)
یمنی صدارتی کونسل:صنعا میں پاسداران انقلاب کے جہاز کی آمد، بین الاقوامی ادارے تحقیقات کریں
یمن کی صدارتی کونسل کے چیئرمین راشد العلیمی نے بین الاقوامی غیر جانبدار تفتیش کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تفتیش کریں اور یمنی حوثیوں پر مزید پابندیاں عاید کی جائیں۔ ان کا یہ مطالبہ ایک ایرانی جہاز کے دارالحکومت صنعا میں اترنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
راشد العلیمی نے کہا صنعا میں اترنے والا جہاز ایرانی پاسداران انقلاب کور سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس سرگرمی کو خطرناک قرار دیا اور کہا یہ یمنی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے اور بین الاقوامی نظام کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک اجلاس کے دوران یمن میں سیاسی عمل کی حمایت کرنے والے ملکوں کے سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات میں یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ایرانی جہاز انسانی بنیادوں پر کوئی امداد لے کر نہیں آیا تھا۔ بلکہ اس میں ایرانی فوج کے سیکیورٹی ماہرین موجود تھے جو میزائل سازی اور ڈرون سازی کی غیرمعمولی مہارت رکھتے ہیں۔ نیز الیکٹرانک ٹیکنالوجیز اور کمیونیکیشنز سے متعلق آلات اور کنٹرول سسٹم کے سیانے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا جہاز کے ٹریکنگ سسٹم نے بار بار یمنی فضائی نظام کو جام کر دیا۔ علیمی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ خصوصا قرارداد نمبر 2216 پر عمل کرایا جائے تاکہ سویلین ایئر پورٹس کو فوجی استعمال میں نہ لایا جا سکے۔
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ نے کہا عالمی معیشت ، میری ٹائم سیکیورٹی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کو ایران ملیشیاؤں کا یرغمال نہ بننے دیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا حوثی وسیع مالی وسائل سمگلڈ ہتھیاروں کی خریدادری پر خرچ رہے ہیں۔ تاکہ ان کے خفیہ سیل سویلین کو قتل کرتے رہیں۔
یمنی رہنما نے اس موقع پر امن ور انصاف پر مبنی نظام کے لیے کونسل اور حکومت کے وعدوں کی تجدید کی۔ نیز سعودی عرب کے امن کوششوں کے لیے کرادر کی تعریف کی۔ یمنی عوام کی بنیادی اشیائے ضروریہ بشمول بجلی و توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بھی سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔