A man counts Iraqi dinars on a money counting machine at a currency exchange shop in Baghdad, Iraq, January 23, 2023. REUTERS/Ahmed Saad
127 ملین دینار، 24 ملین ڈالر: عراق میں آئل ریفائنریز کیس میں کرپشن مالیت بڑھ گئی
تیل کی وزارت کے انڈر سیکرٹری برائے ریفائننگ امور کے کیس میں مزید 25 ارب عراقی دینار برآمد
عراق میں سپریم جوڈیشل کونسل نے پیر کے روز عراقی وزارتِ تیل کے انڈر سیکرٹری برائے ریفائننگ امور کے کیس میں مزید 25 ارب عراقی دینار کی برآمدگی کا اعلان کردیا۔
جوڈیشل کونسل نے ایک بیان میں بتایا کہ مرکزی اینٹی کرپشن کرمنل کورٹ کے تفتیشی جج نے تیل کی وزارت کے زیرِ حراست ملزم انڈر سیکرٹری برائے ریفائننگ امور، عدنان الجمیلی اور ان کے ساتھ ملوث دیگر فریقین کے کیس میں مزید 25 ارب عراقی دینار، ایک ملین ڈالر اور تقریباً 5 کلوگرام وزنی سونے کے زیورات برآمد کرنے کی کارروائی کی وضاحت کی ہے۔
عراقی نیوز ایجنسی "واع" کے مطابق متعلقہ جج نے مزید کہا کہ ملزم اور کیس کے دیگر فریقوں کی جانب سے نافذ کیے گئے منصوبوں میں ہونے والے نقصان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالی اثاثوں کی باریک بینی سے نگرانی کے نتیجے میں یہ رقم برآمد ہوئی۔ یہ رقم پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں میں رکھی گئی تھی اور تکریت شہر میں ملزم کے گھر کے اندر چھپائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ کل مالیاتی رقوم بڑھ کر 127 ارب دینار اور 24 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ریل اسٹیٹ اور گاڑیاں بھی ہیں جنہیں ضبط کیا گیا ہے اور سونا بھی برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تفتیش اور دیگر ملوث افراد کا تعاقب تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے تک جاری رہے گا۔ "العربیہ" چینل کے رپورٹر نے بتایا کہ بیجی ریفائنری میں کنٹریکٹس کے ڈائریکٹر حمد رمضان الجمیلی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جہاں ان کے گھر سے لاکھوں ڈالر اور دینار برآمد ہوئے ہیں۔
کیس میں نیا ملزم
عراق کی وزارتِ داخلہ نے پیر کے روز صلاح الدین گورنری میں ملزم عدنان الجمیلی کے کیس میں مطلوب افراد میں سے ایک کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ وزارت کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ صلاح الدین گورنریٹ میں فیڈرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایجنسی ملزم عدنان الجمیلی کے کرپشن نیٹ ورک سے وابستہ ایک ملزم کو پکڑنے میں کامیاب رہی۔ ملزم کے گھر کے اندر سے تیس لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم، 750 ملین دینار سے زیادہ رقم، ہلکے ہتھیاروں کا ایک گروپ، جدید گاڑیاں اور سرکاری دستاویزی معاہدے برآمد کیے گئے۔
نصف ارب ڈالر کی سمگلنگ
عراقی رکن پارلیمنٹ مصطفیٰ سند نے اتوار کو "تیل کی ریفائنریوں کے معاہدوں" سے متعلق ایک کیس میں بڑی مالی بدعنوانی کے ملزم دو افراد کے فرانس فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا سائیٹ "فیس بک" پر ایک پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ ان کے پاس سمگل شدہ رقم موجود ہے جس کا تخمینہ تقریباً نصف ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
ذرائع نے "العربیہ" چینل کو بتایا کہ عراقی عدلیہ نے ریفائنری کیس میں حسن الکردی اور محمد الکردی کے خلاف انٹربول کا وارنٹ جاری کیا ہے جس میں ان پر تقریباً نصف ارب ڈالر سمگل کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں بھائی محمد اور حسن الکردی اس وقت عراق سے باہر تھے جب عراقی وزارتِ تیل کے انڈر سیکرٹری برائے ریفائننگ امور عدنان الجمیلی کو گرفتار کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حسن الکردی 1993 میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان عراقی بزنس مین ہے جس کا تعلق صلاح الدین گورنریٹ سے ہے اور وہ انرجی کنٹریکٹس سے منسلک حساس مالیاتی فائلوں کا ایک اہم مڈل مین اور مینیجر تھا اور پردے کے پیچھے وسیع اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ اس نے سیاسی اور اقتصادی فنڈنگ نیٹ ورکس کو چلایا تھا اور اس کے اہم ترین معاہدوں میں جنوبی گورنریٹس میں ٹینکوں، آرڈرز اور آئل ریفائنریوں سے متعلق منصوبے شامل تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ حسن الکردی نے عراق سے باہر ایک نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں ڈالر سمگل کیے جہاں ٹریکنگ ڈیٹا نے یورپی ملک میں اس کی موجودگی ظاہر کی جس کے بارے میں عراقی میڈیا نے کہا کہ وہ فرانس ہے اور اس کے بعد وہ غائب ہو گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ حسن الکردی کا شراکت داری کا تعلق شوانہ الکردی نامی شخص سے ہے جو جرمن شہریت رکھتا ہے اور وہ اس کے ساتھ کرپشن کی رشوت خوری اور لاکھوں عراقی فنڈز بیرون ملک سمگل کرنے کے نیٹ ورک میں شریک ہے۔