عبدالمحسن بن خثیلہ - جنیوا میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی عرب کے مستقل مندوب

قومی اقدامات کو بین الاقوامی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں : سعودی سفارت کار

سعودی عرب کی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق قرار داد کے مسودے کو اقوام متحدہ میں بین الاقوامی اتفاق رائے حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سعودی سفارت کار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب اپنے قومی اقدامات کو ایسی بین الاقوامی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہو، جو کہ ملک کے ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی عرب کے سفیر اور مستقل مندوب عبدالمحسن بن خثیلہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ قومی اقدامات ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور انسانی با اختیار بنانے کے شعبوں میں بین الاقوامی کوششوں کی قیادت میں ریاض کی بطور قابل اعتماد شراکت دار حیثیت کو مستحکم کرتے ہیں۔

عبدالمحسن بن خثیلہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنیوا میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی عرب کی طرف سے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق پیش کردہ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے مسودے کو انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس کے دوران بین الاقوامی اتفاق رائے سے بغیر کسی ووٹنگ کے منظور کر لیا گیا۔

سفیر بن خثیلہ نے زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کے میدان میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق سعودی قومی اقدام کا اقوام متحدہ کے فریم ورک میں منتقل ہونا، جس پر بین الاقوامی اتفاق رائے موجود ہے، عملی اثرات رکھنے والے بین الاقوامی اقدامات کو ترتیب دینے میں سعودی عرب کے کردار پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے اس مسودے کو پیش کرنے کی تفصیلات ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کیے گئے قومی اقدام "سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانا" سے جڑی ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ قرارداد اس اقدام کے اہداف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دیتی ہے اور اس کے ویژن کو سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے، اس شعبے میں ان کی شرکت کو بڑھانے، ان کی مہارتوں کو ترقی دینے، خواتین کے پیشہ ورانہ راستوں کی حمایت کرنے اور سائبر ٹیلنٹ اور مہارتوں کے عالمی فرق کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات میں ترجمانی کرتی ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی مندوب عبدالمحسن بن خثیلہ نے کہا "سائبر سکیورٹی کے میدان میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اقدام اب محض ایک قومی پروگرام نہیں رہا، بلکہ یہ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے، صلاحیتیں تعمیر کرنے اور ڈیجیٹل معیشت و سکیورٹی کے مستقبل کے لیے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک میں خواتین کی شرکت کے مواقع وسیع کرنے کے لیے ایک اقوام متحدہ حوالہ بن چکا ہے۔"

سعودی سفارت کار نے واضح کیا کہ سعودی قرارداد کے مسودے کی منظوری پر بین الاقوامی اتفاق رائے کا حصول اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سعودی سفارت کاری قومی اقدامات کو ایسی بین الاقوامی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں وسیع حمایت حاصل ہے۔

اسی تناظر میں کابینہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس میں اس سلسلے میں ولی عہد کی جانب سے شروع کیے گئے عالمی اقدام کے تحت اور اس کے اہداف کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے اور اس کے ویژن کو ٹھوس عملی اقدامات میں ڈھالنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے "سائبر سکیورٹی کے میدان میں خواتین کو با اختیار بنانے" کے بارے میں پیش کردہ قرارداد کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ قرارداد جسے وسیع حمایت حاصل ہوئی اور جو اتفاق رائے سے منظور کی گئی، اس شعبے میں اپنی قائدانہ حیثیت اور خصوصی اقدامات کے پیش نظر سائبر سکیورٹی کے میدان میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ممالک کی کوششوں کی حمایت کرنے کے سعودی عرب کے عزم کو نمایاں کرتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں