دونالد ترامب خلال مؤتمر صحافي في ختام قمة حلف شمال الأطلسي بأنقرة (رويترز)
میرا نہیں خیال ایران کے ساتھ دوبارہ ہمہ جہت جنگ چھڑے گی: ٹرمپ
یہ بہت جلد ختم ہوجائے گا، انہوں نے دو جہازوں کو نشانہ بنایا، ہم نے کہیں زیادہ زور دار جواب دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا نہیں خیال کہ باہمی فوجی حملوں کے بعد ایران کے ساتھ کوئی ہمہ جہت تصادم شروع ہو گا۔
ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "میرا نہیں خیال کہ یہ معاملہ دوبارہ شروع ہو گا۔ میرے خیال میں یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے دو جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، اسی لیے ہم نے انہیں اس سے کہیں زیادہ زوردار جواب دیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا اور یہ صورتحال کو صرف مزید محفوظ بنائے گا۔ تیل کے معاملے میں بھی صورت حال مزید محفوظ ہوجائے گی۔ امریکی صدر نے اپنے سابقہ بیانات کو دہرایا کہ ایران انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میں ایران کے اہداف کی فہرست میں سب سے اوپر ہوں۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی علاقائی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایران کے حملے مفاہمت کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ اسٹکنی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ کسی بڑے تصادم کی خواہش نہیں رکھتے۔
ہم آج رات ان پر شدید وار کریں گے
یہ بات ٹرمپ کی جانب سے بدھ کی رات ایران کو نئے شدید امریکی حملوں کی دھمکی دینے کے بعد سامنے آئی۔ اس سے چند گھنٹے قبل انہوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران اعلان کیا تھا کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل کہا کہ ہم آج رات ان پر شدید وار کریں گے، وہ ہر روز معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
واضح رہے امریکہ نے گزشتہ روز منگل کو ایران میں 80 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے تھے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کا جواب تھے۔ اس کے بعد تہران نے آج واشنگٹن کے حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔
فریقین ایک دوسرے پر 17 جون کو دستخط کیے گئے مفاہمت کی اس یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے طے پائی تھی۔