203d7670-df2a-49b6-a469-ab45caddbe01
ایران مفاہمت کی یادداشت پر عمل کرے: خلیجی ملکوں کا مطالبہ
ہرمز کے حوالے سے یکطرفہ انتظامات کو مسترد کرتے، حملوں کی ذمہ داری تہران پر عائد ہوتی ہے: خلیج تعاون کونسل
آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے پھر کشیدگی اور خلیجی ملکوں کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے خیلجی ملکوں نے اپنے بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ تہران کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 اور امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی مکمل پابندی کرنا ضروری ہے۔
خیلج تعاون کونسل کے ملکوں نے اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کو پائیدار اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا اور کسی بھی یکطرفہ اور غیر قانونی طریقہ کار یا انتظامات کو مسترد کردیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
خلیجی ممالک نے اس ایرانی حملے کی شدید مذمت اور ملامت کی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی بحری جہاز "ودیان" اور قطری بحری جہاز "الرکیات" کو نشانہ بنایا گیا اور دونوں جہازوں کے عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی جہاز رانی کے امن و سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی پر ایک ناقابلِ قبول حملہ قرار دیا ہے۔
حملوں کے تکرار کی مذمت
بیان میں بحرین اور کویت کے خلاف ایرانی حملوں کے تکرار کے واقعے کی خلیجی مذمت کی گئی۔ ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے احکامات اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ یہ قرار سمندری جہاز رانی کی آزادی اور سمندری راستوں سے محفوظ گزرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ خلیجی ملکوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس مفاہمت کی یادداشت کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اسی تناظر میں خلیجی ممالک نے ان حملوں اور ان کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان معاندانہ کارروائیوں کا تسلسل اور خطے کے امن کو بگاڑنے والا رویہ علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو سبوتاژ کرتا ہے۔ بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے اور توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام اور عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ یہ سب کچھ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ایرانی نشانہ بنائے جانے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی تصادم کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے ایران کی گہرائی میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کیے۔
خلیجی یکجہتی
خلیجی ملکوں نے اپنے ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی اور ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک صف میں کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کونسل کے ملکوں کا امن ایک ناقابلِ تقسیم اکائی ہے اور خلیج تعاون کونسل کے بنیادی منشور اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر ہونے والا حملہ تمام ممالک پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔
دفاع کا حق رکھتے ہیں: جی سی سی
اسی فریم ورک کے تحت خلیجی ممالک نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے اس دفاعِ خود اختیاری کے حق کی تصدیق کی جو جارحیت کی صورت میں ممالک کو انفرادی اور اجتماعی طور پر دفاعِ خود اختیاری کا حق دیتا ہے اور وہ تمام اقدامات اٹھانے کا حق دیتا ہے جو ان کی خودمختاری، امن اور استحکام کا تحفظ کریں۔
ذمہ داری ایران پر
خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے ان حملوں اور ان کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان معاندانہ کارروائیوں کا تسلسل اور خطے کے امن کو بگاڑنے والا رویہ علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو سبوتاژ کرتا ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے اور توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام اور عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے ممالک عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل سے اپنی یہ دعوت دہراتے ہیں کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بین الاقوامی گزرگاہوں میں محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت موقف اپنائے۔
سلامتی کونسل بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے کے احکامات کے مطابق بغیر کسی پابندی کے اور بغیر کسی راہداری فیس یا سروس چارجز کے مضيق ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دے کیونکہ یہ توانائی کی سکیورٹی، خوراک و ادویات کی فراہمی اور عالمی تجارت کی روانی کا بنیادی ستون ہے۔ جی سی سی ممالک نے تمام ایرانی معاندانہ کارروائیوں کو مستقل، فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے اور مضيق ہرمز کو پائیدار اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے اور کسی بھی یکطرفہ اور غیر قانونی طریقہ کار یا انتظامات کو مسترد کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔