سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے ٹورسٹ پیکیج ویزا کی تفصیلات جاری کر دیں

ایک ہی پلیٹ فارم سے ویزا، پرواز، رہائش اور تفریحی سرگرمیوں کی سہولت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے ٹورسٹ پیکیج ویزا سروس کا تجرباتی مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کے سفر کو ایک ہی سروس میں یکجا کرنا ہے جو ویزا، ہوائی سفر، رہائش اور انشورنس پر مشتمل ہو، جبکہ اس میں سیاحتی تقریبات اور تجربات کو شامل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ یہ اقدام نہ صرف دفتری کارروائیوں کو مختصر کرے گا بلکہ مملکت کے لیے سیاحت کی نئی منڈیوں اور زائرین کے نئے طبقات کے دروازے کھولے گا۔

وزارتِ سیاحت کے سرکاری ترجمان نصر الانصاری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مملکت کی جانب سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کو آسان بنانے کے لیے اختیار کیے گئے مربوط راستے کا تسلسل ہے، جس کا آغاز ای ویزا، ٹرانزٹ ویزا اور آن ارائیول ویزا کے اجرا سے ہوا تھا۔

ایک پیکیج میں مکمل سفر

الانصاری نے وضاحت کی کہ یہ نئی سروس روایتی سیاحتی ویزوں سے مختلف ہے، کیونکہ یہ زائرین کو ایک منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم فراہم کنندہ کے ذریعے خدمات کا ایک مکمل مجموعہ حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے، جس میں ویزا کا اجرا، ہوائی جہاز ، رہائش کی بکنگ اور انشورنس ایک ہی الیکٹرانک پیکیج میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاح کو اب ہر کارروائی الگ الگ مکمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ سفر کی منصوبہ بندی اور بکنگ سے لے کر مملکت میں آمد تک کے تمام انتظامات ایک ہی ڈیجیٹل راستے سے مکمل کر سکتے ہیں، جس سے سہولت اور تنظیم کی سطح بلند ہوگی اور زائرین کا تجربہ بہتر ہوگا۔

سیاحت کی نئی منڈیوں تک رسائی

انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹورسٹ پیکیج ویزا مملکت کی سیاحوں کے نئے طبقات تک رسائی کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے، جبکہ ’ای ویزا‘ نے 66 ممالک کے شہریوں کے لیے مملکت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام سعودی مقامات کی کشش کو بڑھانے، ان تک رسائی کو آسان بنانے اور سروس فراہم کرنے والوں کو ایسی مصنوعات تیار کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہے جو مختلف بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔

پیکیج میں ایونٹس اور تجربات

یہ سروس سیاحتی اور تفریحی سرگرمیوں، تقریبات اور تجربات کے ٹکٹ پیکیج میں ہی شامل کرنے کی اجازت دیتی ہے، جو سیاح کو زیادہ مربوط سفر فراہم کرتی ہے اور مملکت کے خطوں میں موجود تنوع اور وسائل سے استفادہ کو بڑھاتی ہے۔ الانصاری کا ماننا ہے کہ ان خدمات کو یکجا کرنے کا اثر صرف طریقہ کار کو آسان بنانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ سیاحتی اخراجات کو بڑھانے، قیام کی مدت میں اضافہ کرنے اور مقامی سرگرمیوں اور مقامات کی مانگ کو متحرک کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔

آمدنی اور رہائش کے تناسب میں بہتری

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف کی حمایت کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی زائرین کی آمد میں آسانی، سیاحتی آمدنی میں اضافہ، مہمان نوازی کے مراکز میں رہائش کی شرح میں بہتری اور لائسنس یافتہ سیاحتی اداروں اور سرگرمیوں کو متحرک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت نے مطلوبہ معاشی اثرات حاصل کرنے کے لیے ضابطے وضع کیے ہیں، جن میں پیکیج کی کم از کم قیمت اور قیام کی مدت کا تعین شامل ہے، تاکہ قومی آمدنی میں سیاحت کا حصہ بڑھایا جا سکے۔

نجی شعبے کے لیے نئے مواقع

الانصاری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سروس منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم فراہم کرنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک پہنچنے اور ایسے پیکیجز ڈیزائن کرنے کے وسیع تر امکانات کھولتی ہے جو ویزا، نقل و حمل، رہائش اور تفریحی و ثقافتی تجربات کو یکجا کرتے ہیں۔ خدمات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے وزارت سیاحت نے تنظیمی تقاضے مقرر کیے ہیں جن میں چوبیس گھنٹے کال سینٹر اور تکنیکی معاونت کی فراہمی، نیز مرکزی نظام کے ساتھ تکنیکی ربط شامل ہے تاکہ ایک قابل اعتماد اور اعلیٰ کارکردگی کا تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

تجرباتی مرحلے کا جائزہ

وزارتِ سیاحت کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ وزارت خارجہ اور داخلہ کی وزارتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور سعودی ٹورازم اتھارٹی اور انشورنس اتھارٹی کے تعاون سے اس سروس کو وسیع کرنے پر غور کرنے سے پہلے تجرباتی مرحلے کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ سروس ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب مملکت نے ویژن 2030ء میں مقررہ وقت سے پہلے 100 ملین زائرین کے استقبال کا ہدف عبور کر لیا ہے، جو شعبے کی تیز رفتار ترقی اور اس کے توسیعی مرحلے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

20 ڈیجیٹل مصنوعات تیاری کے مراحل میں

اس اقدام کے ساتھ ساتھ وزارت "ٹورازم آرٹیفیشل انٹیلی جنس ویژن" کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی اور اسمارٹ سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا مقصد دنیا کے سب سے ترقی یافتہ سمارٹ سیاحتی نظاموں میں سے ایک کی تعمیر ہے۔ الانصاری نے وضاحت کی کہ وزارت سیاحت نے ٹورازم ایکس پلیٹ فارم شروع کیا ہے، جو فی الحال مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چھ ٹولز فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ اسمارٹ انسپکٹر اور اسمارٹ ہاؤسنگ جیسی ڈیجیٹل مصنوعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ 20 سے زائد نئی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کرنے پر کام جاری ہے، جنہیں اگلے تین سالوں کے دوران لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ سب ایک زیادہ موثر، پائیدار اور مسابقتی سیاحتی شعبہ بنانے اور قومی معیشت کو متنوع بنانے میں اس کے کردار کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں