ایرانی جارحیت کسی بھی بہانے ناقابلِ قبول ہے:عرب لیگ

کسی بھی عرب ملک کی خودمختاری پر حملہ ناقابلِ برداشت خلاف ورزی ہے:نبیل فہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے متعدد عرب ممالک پر ایرانی جارحیت کے تسلسل پر اپنے شدید ردِ عمل کے ساتھ ساتھ ان حملوں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ہمسائیگی کے قواعد کے بھی منافی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر بار بار ایرانی حملے بین الاقوامی جہاز رانی کی سکیورٹی اور آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس کے علاوہ کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سلطنتِ عمان اور اردن کو نشانہ بنانے والے حملے بھی اس جارحیت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عرب لیگ عرب ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کو متاثر کرنے والے یا ان کی قومی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتی ہے۔

نبیل فہمی نے وضاحت کی کہ ان حملوں کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عرب ممالک کی سکیورٹی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اور کسی بھی عرب ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا ایک ناقابلِ برداشت خلاف ورزی ہے جس کے لیے ایک متحد اور پُرعزم عرب موقف کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری جنرل نے نشانہ بننے والے عرب ممالک کے ساتھ عرب لیگ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور ان کی خودمختاری کے دفاع، سکیورٹی کے تحفظ اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے تمام جائز اقدامات کی حمایت کی۔

بین الاقوامی قانون کا احترام

انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے تاکہ بین الاقوامی قانون کے احترام اور بین الاقوامی جہاز رانی کی سکیورٹی اور آزادی کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ ملے۔

جوائنٹ عرب ایکشن کو مضبوط کرنے پر زور

اسی سلسلے میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و امورِ مہاجرین ایمن الصفدی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس دوران خطے میں کشیدگی کو روکنے، سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مشترکہ عرب ایکشن کو تقویت دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سیکرٹری جنرل نے ایرانی جارحیت کے مقابلے میں اردن کے ساتھ عرب لیگ کی مکمل یکجہتی کا یقین دلایا اور موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور عرب ممالک کی سکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے لیے عرب رابطہ کاری کو تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کے تناظر میں مشترکہ عرب عمل کو تقویت دینے اور عرب قضایا اور مفادات کے تحفظ کے طریقوں کا جائزہ لیا تاکہ عرب یکجہتی اور رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جا سکے۔

آج صبح سویرے حملے

متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین نے اتوار کی صبح میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ سائرن بھی بجائے گئے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ فی الحال ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہی ہے۔ وزارت دفاع نے ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا کہ اماراتی فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا جواب دے رہا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز کے خلاف کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ مسلح افواج میزائل حملے کا جواب دیا ہے۔ دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ موبائل فونز پر سکیورٹی الرٹ بھیجا گیا جس میں رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ گھروں اور محفوظ مقامات پر رہنے کی پابندی کریں۔

اسی تناظر میں بحرین کے حکام نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام ایرانی حملوں کا جواب دے رہا ہے۔ اس سے قبل بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سائرن بجانے کا اعلان کیا تھا۔ وزارت نے ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ سائرن بجا دیے گئے ہیں، ہم شہریوں اور رہائشیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی طرف جائیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے خبریں سنیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج اعلان کیا کہ اس نے اردن میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں