ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں، جہاز رانی بدستور جاری ہے:امریکہ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز ان تمام جہازوں کے لیے بدستور کھلی ہے جو اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے قانونی طور پر گزرنے کے خواہاں ہیں۔ کمانڈ نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی افواج جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں۔
’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "ایرانی جارحیت، ہراساں کرنے کے اقدامات، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات" کے باوجود جہاز رانی کی آزادی بدستور برقرار رہے گی۔
کمانڈ نے مزید کہا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ بحری جہاز رانی کا سلسلہ جاری ہے اور جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق ہو رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اطلاع دی تھی کہ آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی کے خطرات کی سطح بدستور شدید درجے پر ہیں۔ اس نے جہازوں کو عبور کرتے وقت احتیاط برتنے اور منظور شدہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
تاہم اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ ایران کی جانب سے 12 جولائی کو آبنائے بند کرنے کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کے گزرنے کے لیے جنوبی راستہ بدستور دستیاب ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ دونوں اطراف میں ٹریفک کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے راستے کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اس نے ہمسایہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایرانی ساحلی علاقوں پر حملوں کے نئے دور کے اگلے دن سامنے آیا ہے جسے امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا جواب قرار دیا ہے۔
یہ نئی کشیدگی جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے جس کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا تھا جو 28 فروری سنہ 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں شروع ہوئی تھی۔