املج اپنے پرچر سمر کے درختوں کے لیے مشہور ہے، جو سائنسی طور پر ویچیلیا ٹارٹیلس کے نام سے جانا جاتا ہے، جو مملکت کی بہترین شہد کی اقسام میں سے ایک پیدا کرتا ہے۔ (SPA)
سعودی عرب : املج کی سوغات شہد 'سمر' اب تک ٹنوں کے حساب سے حاصل ہو چکا
مملکت کے اہم علاقے تبوک میں املج کا مشہور زمانہ شہد ان دنوں شہد کے پک کر اتارے جانے کے موسم تک پہنچ چکا ہے۔ شہد کی اس انڈسٹری سے وابستہ مقامی لوگ اب تک ٹنوں کے حساب سے شہد اتار چکے ہیں تاہم ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
یاد رہے تبوک میں املج کا گورنریٹ 'سمر' کے شہد کے لیے بطور خاص مشہور ہے۔ اس گورنری میں 'سمر' کے درختوں کی روایتی طور پر بھرمار ہے۔ اس خاص درخت کی املج کے باغات، میدانوں اور وادیوں میں بہتات کے ساتھ ہیں جو اس اہم قسم کے شہد کا موجب بنتے ہیں۔ اس 'سمر' شہد کی مکھیاں اس درخت پر ہی اپنے شہد کے چھتے لگانا پسند کرتی ہیں۔
املج کی وادیاں اس خاص درخت 'سمر' سے بھری پڑی ہیں۔ مقامی شہد کو اتارنے والے لوگوں کے مطابق اب تک پانچ ٹن شہد اتار کر جمع کیا جا چکا ہے۔ جبکہ یہ شہد اتارے جانے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
'سمر' تبوک میں پایا جانے والا وہ شہد ہے جو دوسرے کئی اقسام میں نمایاں ہیں۔ یہاں کی فضا اس خاص قسم کے شہد کے لیے ایک ماحولیاتی سازگاری رکھتی ہے۔ ان 'سمر' کے درختوں کو اگانے والے اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کو پانی اور زرعی مدد بھی وافر میسر ہے۔ 'سمر' شہد تیار کرنے والی شہد کی مکھیاں اس سہولت سے خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔
املج کی معیشت اس شہد سازی کے ماحول کا غیر معمولی دخل ہے۔ مملکت بھی اس قدرتی سوغات کو بڑھاوا دینے کے لیے مقامی لوگوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہ شہد معیار اور ذائقے میں بھی اپنی مٹھاس آپ رکھتا ہے۔ اس لیے بعض لوگ علاقے میں اس کی مکھیاں پالنے سے وابستہ ہو چکے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہد حاصل کیا جا سکے۔