UN Photo/Manuel Elías قاعة مجلس الأمن الدولي. يتشكل المجلس من 15 عضوا، منهم 5 دائمو العضوية

سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر امریکہ اور چین کے درمیان بحث

واشنگٹن کا تعمیری سفارت کاری پر زور اور بیجنگ کا اس پر حالات بھڑکانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر امریکہ اور چین کے مندوبین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

آج منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں امریکہ نے یمنی حکومت اور خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے لاحق خطرات کے خلاف حمایت کا اعادہ کیا۔ امریکی مندوب نے کہا کہ ایران اور حوثی جہازوں پر حملے کر کے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ روز ایران کا جو طیارہ یمنی فضائی حدود میں داخل ہوا، اسے حوثیوں کو اسلحہ پہنچانے کے لیے ایک اور مقصد کی آڑ میں استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران اور حوثی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کریں اور حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

امریکی مندوب نے مزید کہا کہ ایران اور حوثیوں کے لیے دہرے استعمال کی 70 فی صد برآمدات کا ذریعہ چین ہے۔

دوسری جانب چینی مندوب نے خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں چین کے کردار کے حوالے سے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا۔ فرانس اور بحرین کے مندوبین نے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کے لیے حوثیوں کے خطرات کو ختم کرنے پر زور دیا اور اس حوالے سے سخت موقف اپنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

امریکہ کی نائب مستقل مندوب ٹیمی بروس نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ تہران یمنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور حوثی دہشت گرد گروپ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 3 جولائی کو تہران سے ایک طیارہ صنعاء پہنچا، جس کا مقصد حوثی حکام کی تجہیز و تکفین کے بہانے ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈرون اور میزائل ماہرین کو منتقل کرنا تھا۔ بروس نے کہا کہ یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے ایرانی حمایت سے گذشتہ ایک دہائی میں اپنی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو غیر ملکی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ایران پر سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو واضح پیغام دے کہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی نا قابل قبول ہے اور اسے بند ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ یمنی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود پیر کی صبح ایک ایرانی طیارہ یمنی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں