اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد تباہی کے مناظر۔

ایرانی میزائل حملے کی ویڈیوز بیچنے پر اسرائیلی فوجی کو جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس نے ایرانی ایجنٹ کو میزائل روکنے کی ویڈیوز بھیجنے پر ایک حاضر سروس فوجی کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

فوج نے کہا کہ سپاہی نے گذشتہ سال جون میں ایران سے 12 روزہ جنگ کے دوران ایسی دو ویڈیوز بھیجی تھیں اور "ان کے بدلے رقم وصول کی تھی"۔ نیز کہا کہ اس نے شہری مقامات پر فلمائی گئی کئی ویڈیوز بھی ایرانی ایجنٹ کو بھیجیں۔

فوج نے کہا کہ سویلین مقامات کی فوٹیج میں ایک میزائل سے متأثرہ مقام کی دستاویزی معلومات بھی شامل ہیں جو فوجی کو آن لائن ملی تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "بالآخر دباؤ محسوس کرنے کے بعد مدعا علیہ نے اپنے فوجی یونٹ میں کسی کو اطلاع دی کہ وہ ایک غیر ملکی ایجنٹ کے ساتھ رابطے میں رہا تھا،"۔

"اگلے دن اسے سکیورٹی ایجنسی شِن بیت نے گرفتار کر لیا،" لیکن یہ نہیں بتایا کہ گرفتاری کب ہوئی تھی۔

سپاہی سے اس کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے ذریعے رابطہ کیا گیا جہاں اسے ملازمت کی پیشکش سمیت پیغامات موصول ہوئے۔

ان پیغامات میں ایک ایرانی ایجنٹ کی طرف سے ایک پیشکش میں کہا گیا تھا کہ کیا وہ "فوٹو گرافی سے متعلق کام انجام دے کر" پیسہ کمانا چاہیں گے۔

فوجی استغاثہ نے مذکورہ فوجی کے لیے سات سال قید کی سزا کا تقاضہ کیا ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

"عدالت نے یہ بات مدِ نظر رکھی کہ مدعا علیہ نے فوجی معلومات یا اپنے فوجی فرائض کے ذریعے حاصل کردہ معلومات منتقل نہیں کیں، اس نے خود غیر ملکی ایجنٹ سے رابطہ ختم کیا تھا اور فوراً اپنے کمانڈرز کو رابطے کی اطلاع دی تھی،" فوج نے کہا۔

نیز کہا گیا، "عدالت نے مدعا علیہ کو پانچ سال قید، معطلی کی قید کی سزا، 1,000 شیکلز (335 ڈالر) جرمانہ اور درجے میں تنزلی کی سزا سنائی۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں