تہران کے جنوب میں پاکدشت میں تختۂ دار کے قریب زمین پر ایک ایرانی پولیس اہلکار کے بوٹ اور ایک پھندے کا سایہ نظر آ رہا ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
ایران میں جنوری کے مظاہروں میں شریک ہونے کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو پھانسی
عدلیہ نے اعلان کیا کہ ایران نے بدھ کے روز ایک شخص کو پھانسی دے دی جسے جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہونے کا مرتکب قرار دیا گیا۔
عدلیہ کی پریس ایجنسی نے بتایا، "دشمن سے تعاون کرنے والے محمد امینی دہاقانی کو آج صبح سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیق کے بعد پھانسی دے دی گئی۔"
وہ "محاربہ" (خدا کے خلاف جنگ) اور "زمین پر بدعنوانی" کا مجرم پایا گیا تھا۔
سرکاری میڈیا نے مزید کہا کہ مجرم نے "نو جنوری کو دہاقان میں گورنر کے دفتر کے باہر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکا جس سے آگ لگ گئی اور عوامی املاک کے ساتھ ساتھ قصبے کا پولیس سٹیشن بھی تباہ ہو گیا۔"
گذشتہ دسمبر کے آخر میں ایران میں ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا اور اس میں سیاسی مطالبات بھی شامل تھے۔
مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے۔
بیرونِ ملک مقیم انسانی حقوق کے گروپوں نے ہلاک شدگان کی تعداد کہیں زیادہ بتائی اور سکیورٹی فورسز پر مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا۔
شرقِ اوسط جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔