صورة نشرها الإعلام الإيراني لجسر بعد الضربات الأميركية (أ ف ب)

ایران کی شہری تنصیبات پر حملوں کے دعوے بے بنیاد ہیں: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے ہفتے کے روز ایران کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ حالیہ فضائی حملوں کے دوران شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ان تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا ،جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب خطے میں بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ،جب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ملک کے جنوب میں بجلی گھروں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/7V8iGAGbGh

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 18, 2026

یہ تنازع ایسے وقت میں جاری ہے، جب ایران کے خلاف امریکی فضائی مہم مسلسل ساتویں رات میں داخل ہو چکی ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس بات پر اختلاف بڑھ رہا ہے کہ ایران کے اندر حملوں کا اصل ہدف کیا ہے اور آیا یہ کارروائیاں صرف فوجی تنصیبات تک محدود ہیں یا ان کا دائرہ شہری سہولیات تک بھی پھیل گیا ہے۔

واشنگٹن: اہداف فوجی تنصیبات تھیں

امریکی فوج نے کہا ہے کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹس ''غلط'' ہیں۔ فوج کے مطابق حملوں میں ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب خلیج میں بحری آمدورفت کو متاثر کرنے والی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

امریکی فوج نے اے بی سی نیوز کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور تجارتی کشتیوں کو نشانہ بنا کر ایران ہی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ان کی کارروائیوں کا مقصد پاسداران انقلاب کی فوجی اور لاجسٹک صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) بھی اعلان کر چکی ہے کہ اس کے حالیہ فضائی حملوں میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک سہولیات، زیر زمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔

ایرانی مؤقف

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حملے فوجی اہداف سے آگے بڑھ گئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ''مہر'' کے مطابق کئی میزائلوں نے صوبہ ہرمزگان کے شہر جاسک میں بونجی گاؤں کے ساحلی علاقے میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کے پمپوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث کئی ساحلی دیہات میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ایرانی خبر رساں ادار ے '' تسنیم'' نے بھی دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی حملوں سے بندر عباس اور رودان کو ملانے والی شاہراہ پر واقع دو پلوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایرانی مؤقف کے مطابق ان حملوں میں ہلاکتیں اور زخمی بھی ہوئے۔

جاسک تنازع کا مرکز بن گیا

شہر جاسک دونوں مؤقفوں کے درمیان اختلاف کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔ یہ علاقہ آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب واقع بحری تنصیبات اور لاجسٹک مراکز رکھتا ہے، جبکہ یہاں پانی صاف کرنے والے پلانٹس بھی موجود ہیں جن پر علاقے کی آبادی کا انحصار ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں بجلی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

دوسری جانب واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جن تمام اہداف کو نشانہ بنایا گیا ،وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی ڈھانچے سے منسلک تھے، جنہیں وہ خلیج میں اپنی کارروائیوں کی حمایت کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اہداف کی نوعیت پر تنازع

دونوں ممالک کے مؤقف میں تضاد ایران کے اندر نشانہ بنائے گئے مقامات کی نوعیت پر بڑھتے ہوئے اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ جن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہ شہری بنیادی ڈھانچے کا حصہ تھیں، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ مقامات اس لاجسٹک اور فوجی معاونتی نیٹ ورک کا حصہ تھے جسے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ پیدا کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جولائی کے آغاز میں عارضی معاہدہ ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور محاذ آرائی جاری ہے۔ یوں اہداف کی نوعیت پر بحث بھی زمینی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں