Jordanian flag next to Jewish settlements
اردنی فوج نے ہفتہ کی صبح اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی حدود کو نشانہ بنانے والے 10 ایرانی میزائلوں کو روک کر مار گرایا۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ میزائلوں کو ناکام بنانے کے اس آپریشن کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ رائل انجینئرنگ کور کی ٹیموں نے میزائلوں کے ملبے گرنے والے مقامات پر کارروائیاں شروع کر دیں اور مقررہ فنی و سکیورٹی طریقہ کار کے مطابق ملبے کو محفوظ بنانے اور نمٹانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کویت اور بحرین
دوسری جانب کویت کی فوج کے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایرانی جارحیت کے بعد دشمن کے میزائل حملوں اور ڈرونز کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، تو یہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو روکنے کے نتیجے میں ہیں۔
اسی طرح بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں سائرن بجانے کا اعلان کیا۔ وزارت نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
ایران پر امریکی حملے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس سے قبل اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل کیا ہے۔
سینٹ کام نے ہفتہ کی صبح ''ایکس'' پر جاری بیان میں کہا کہ ان حملوں میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین ہتھیار ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور بحری صلاحیتوںکو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج نے ان کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر فوجی وسائل کا استعمال کیا۔
سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو چوکس، مؤثر اور ہر وقت تیار ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ ماہ ہونے والا عارضی معاہدہ 7 جولائی کو اس وقت ختم ہو گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے۔
اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔