عراقی وزیر خارجہ فواد حسین
ہم جنگ کے خلاف ہیں، ہمیں اس میں گھسیٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے: عراقی وزیر خارجہ
عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کا ملک جنگ، اس کے تسلسل اور خطے میں اس کے دائرہ کار میں اضافے کے سخت خلاف ہے۔
انہوں نے العربیہ/الحدث کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ عراق پر اسے جنگ میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
فواد حسین نے بتایا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث عراق کو مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے عراق نے تیل برآمد نہیں کیا، جس کے باعث ملکی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔
خلیجی ممالک سے اچھے تعلقات کے پابند ہیں
عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ عراق خلیجی ممالک کے ساتھ اچھے اور مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عراق خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کی مذمت کرتا ہے۔
فواد حسین نے یہ بھی اعلان کیا کہ عراق خلیجی ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔ریاست کے پاس اسلحہ محدود کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تین مسلح گروہوں نے عملی طور پر اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء کی جانب سے اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ، جو بعد ازاں عراق اور دیگر پڑوسی ممالک تک پھیل گئی، کے بعد ایران نواز عراقی مسلح گروہ روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
ان گروہوں نے متعدد بار ڈپلومیٹک سپورٹ سینٹر اور بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا، تاہم عراقی فضائی دفاع نے راکٹوں اور ڈرونز سے کیے گئے ان میں سے بیشتر حملے ناکام بنا دیے۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل سے منسوب فضائی حملوں میں ان مسلح گروہوں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ عراق کے کردستان ریجن میں موجود ایرانی اپوزیشن کے مراکز اور وہاں تعینات سکیورٹی فورسز کی تنصیبات بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئیں۔