علم الأردن آيستوك

ایران اشتعال انگیزی پھیلا رہا، ہماری سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے: اردن

ہم نے ایرانی ناظم الامور کو شدید الفاظ پر مبنی احتجاجی مراسلہ پہنچا دیا ہے: اردنی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے عمان میں ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا اور انہیں مملکت کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے مسلسل، ظالمانہ اور بلاجواز ایرانی حملوں اور مملکت کے بارے میں ایرانی سرکاری حکام کی جانب سے جاری ہونے والے اشتعال انگیز اور فتنہ انگیز بیانات کے خلاف شدید الفاظ پر مبنی احتجاجی مراسلہ تھما دیا ہے۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (پترا) نے رپورٹ کیا ہے کہ اردنی وزارت کے سرکاری ترجمان سفیر فواد المجالی نے کہا کہ وزارت نے ناظم الامور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو ایک واضح پیغام منتقل کریں جس میں مملکت پر حملے فوری طور پر روکنے کا کہا گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ بھی کہا گیا کہ اردن کی سلامتی اور اس کے شہریوں کا تحفظ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ناقابل قبول اشتعال انگیز بیانات کو روکنا بھی ضروری ہے۔

فواد المجالی نے وضاحت کی کہ وزارت نے ظالمانہ ایرانی حملوں کی مذمت اور مخالفت کا اعادہ کیا ہے جو مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح پامالی ہیں۔

انہوں نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو نشانہ بنانے والے ظالمانہ ایرانی حملوں کی اردن کی جانب سے مذمت کی بھی تصدیق کی۔

ان ممالک کی خودمختاری، سلامتی، اور ان کے شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات میں ان کے ساتھ اردن کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔

فواد المجالی نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ اردن اپنے شہریوں کے تحفظ، اپنی سلامتی اور اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب اور ضروری اقدامات اٹھانا جاری رکھے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں