الرئيس الأميركي دونالد ترامب (أرشيفية - رويترز)
ایران کو قتل ہونے والے ہر امریکی فوجی کے بدلے کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑے گی: ٹرمپ
واشنگٹن نے کارروائیوں کے دوران 3 فوجیوں کی ہلاکت اور چوتھے فوجی کے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کو دھمکی دی ہے کہ قتل ہونے والے ہر امریکی فوجی کے بدلے اسے کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔ یہ دھمکی واشنگٹن کی جانب سے ہفتے کے آخر میں کارروائیوں کے دوران مزید تین فوجیوں کی ہلاکت اور چوتھے فوجی کے لاپتہ ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ جب بھی ایران کسی امریکی فوجی کو قتل کرے گا، اسے اس کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈینیئل کین اور تمام فوجی کمانڈروں کو اس ہدایت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل ان دو فوجیوں کی شناخت کا اعلان کیا تھا جو گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے دوران ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔
وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فہان، عمر 25 سال، تعلق ایوا بیچ، ریاست ہوائی سے اور خاتون فوجی ازابیلا گونزالیس، عمر 19 سال، تعلق کیرولٹن ریاست ٹیکساس سے، اردن میں ہلاک ہوئے جہاں وہ داعش کے خلاف ایک امریکی مشن کی معاونت کر رہے تھے۔ ان کی ہلاکت کے حالات ابھی واضح نہیں ہو سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران دو فوجی ہلاک ہوئے اور سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو یہ بھی اعلان کیا کہ ہفتے کے روز شمالی عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے غیر پھٹنے والے گولہ بارود کے کنٹرولڈ دھماکے کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا۔ ایک اور فوجی معمولی زخمی ہوا جس کا طبی علاج جاری ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں ہلاکتوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک ہمہ گیر جنگ میں ہے۔ امریکہ نے ایران پر اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اس کی بمباری خلیج کے شہر بوشہر تک پہنچ گئی ہے جہاں ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ موجود ہے۔
تہران نے خلیجی ملکوں اور اردن کو نشانہ بنانا جاری رکھا اور آبنائے ہرمز میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ایرانی میڈیا نے بتایا کہ ملک کے جنوب مغرب میں واقع شہر بوشہر میں کئی مقامات کو امریکی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ فضائی حملے میں صوبہ بوشہر کے شہر خورموج میں دو فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے بعد میں صوبہ فارس کے ڈپٹی گورنر کے حوالے سے بتایا کہ ایک امریکی فضائی حملے نے ملک کے وسط میں واقع شہر شیراز کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا۔ جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔